fbpx

وزن میں صرف 5 فیصد کمی بھی ذیابیطس سے بچاسکتی ہے، تحقیق

Weight Loss

Weight Loss

الینوئے: امریکا میں کی گئی ایک وسیع تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وزن میں صرف 5 فیصد کمی کرکے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑی حد تک ختم کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے تقریباً 24 ہزار مختلف النسل امریکیوں کی صحت سے متعلق اعداد و شمار استعمال کیے گئے جو 2001 سے 2016 کے دوران، دو بڑے مطالعات کے دوران جمع کیے گئے تھے۔

’’میسا‘‘ (MESA) اور ’’نینز‘‘ (NHANES) کے عنوان سے یہ دونوں مطالعات بالترتیب 1999 اور 2000 میں شروع ہوئے، جو آج تک جاری ہیں۔

مذکورہ تحقیق میں جہاں یہ معلوم ہوا کہ زائد الوزن (اوور ویٹ) اور موٹے افراد کے ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے، وہی یہ بھی پتا چلا جو لوگ اپنا وزن صرف 5 فیصد کم کرنے میں کامیاب ہوئے، ان کی بڑی تعداد ذیابیطس سے محفوظ رہی۔

واضح رہے کہ موٹاپے کو ذیابیطس سمیت درجنوں امراض کی جڑ قرار دیا جاتا ہے۔

پچھلے کئی سال سے طبّی ماہرین مسلسل زور دے رہے ہیں کہ روزانہ بیس سے پچیس منٹ پیدل چل کر، مناسب ورزش کرکے، متوازن غذا استعمال کرکے، اور دوسری صحت بخش عادتیں اپنا کر موٹاپے کے ساتھ ساتھ ایسی کئی بیماریوں پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے جو موٹاپے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔

تازہ تحقیق سے اس ضمن میں وزن کم کرنے کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی ہے۔

’’موٹاپے کی وجہ سے ذیابیطس کے بوجھ کی شدت جان کر ہم حیران رہ گئے۔ ذیابیطس کے نئے مریضوں میں ایک تہائی سے نصف تک میں اس بیماری کی وجہ موٹاپا دیکھا گیا ہے،‘‘ ڈاکٹر سعدیہ ایس خان نے کہا، جو الینوئے کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے فائنبرگ اسکول آف میڈیسن میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مذکورہ تحقیق کی مرکزی ماہر بھی ہیں۔

اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امریکا میں ذیابیطس کے اکثر مریضوں کا تعلق متوسط اور غریب طبقے سے ہے جسے کم تر درجے کی طبّی سہولیات میسر ہیں جبکہ وہ غیر صحت بخش ماحول میں رہ رہے ہیں۔

یہ امریکی معاشرے کے وہ طبقات ہیں جو غیر ہسپانوی سیاہ فام اور میکسیکن نسلوں پر مشتمل ہیں؛ اور اسی وجہ سے انہیں ہمیشہ امریکا میں نسلی تعصب کا سامنا رہتا ہے۔

’’جرنل آف امریکن ہیلتھ ایسوسی ایشن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی اس تحقیق میں جہاں صحت بخش غذائیں اور عادات اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے، وہیں سماجی ناہمواری اور نسلی تعصبات کو بھی عوامی صحت کےلیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔