عالمی یوم خاندان کے موقع پر ماں اور بچے کی صحت کے حوالہ سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا

جھنگ (شفاقت اللہ سیال سے) محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال کے زیر اہتمام ادارہ صنعت زار جھنگ میں میاں میر ویلفیئر فائونڈیشن و پی آر ایس پی کے تعاون سے “عالمی یوم خاندان”کے موقع پر ماں اور بچے کی صحت کے حوالہ سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی ڈی او سوشل ویلفیئر میاں اظہر عباس عادل تھے۔تقریب میں ڈی ڈی او سوشل ویلفیئر ملک مختار عباس، وائس چیئر مین ڈی سی سی سیدقمر عباس زیدی، ڈاکٹر ریاض نول، عالم شیر، ڈاکٹر عطیہ اور فاطمہ اقبال کے علاوہ مختلف این جی اوز کے مردو خواتین نمائندگان و ادارہ کی اساتذہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

اس موقع پر میاں اظہر عباس عادل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب 12 سے 17 مئی ماں او ربچے کی صحت کا ہفتہ منا رہی ہے جس میں حاملہ خواتین کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروانے کے علاوہ دو سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچائو کے ٹیکے اور دو سال تک کی عمر کے بچوں کو پیٹ کے کیڑوں کے خاتمہ کی دوائی پلانے کے علاوہ پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ماں کی صحت ٹھیک ہو گی تو بچہ خود بخود صحت مند ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ معاشرہ میں اگر کوئی افضل رشتہ ہے تو وہ ماں کا ہے اسی لئے حکومت یہ ہفتہ ماں کے نام کر رہی ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگوائیں اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ذریعے بچوں کی شرح اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔قمر زید ی نے کہا کہ مل جل کر رہنا ہی معاشرہ کہلاتا ہے جس کی پہلی بنیاد صحت مند خاندان کا ہونا ہے اور اسے معاشرتی و سوشل مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ماں اور بچے کی اموات کی وجوہات پر قابو پانے کیلئے حکومت کی طر ف سے مفت فراہم کردہ ویکسین کا استعمال کرنا ضروری ہے جس کیلئے والدین کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا اگر ماں اور بچے کی صحت درست ہوگی تو معاشرہ خوشحال ہو گا۔ عالم شیر نے کہا کہ ایک سال میں اگر لاکھ مائیں بچے پیدا کرتی ہیں تو اس میں سے 276 مائیں بچے پیدا کرتے وقت مر جاتی ہیںاور اگر اس دوران ایک ہزار بچے پیدا ہوں تو 74 بچے پیدائش سے اپنی زندگی کے 28 دن پورے نہیں کر پاتے اور سو بچوں میں سے 89 بچے پیدائش کے وقت ہی مر جاتے ہیں اسی طرح 55 بچے پانچ سال کی عمر پوری نہیں کر پاتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں اگر ایک منٹ میں آٹھ بچے پیدا ہو رہے ہیں تو ان میں سے تین بچے مربھی جاتے ہیں ان اموات کی اصل وجہ نان ٹیکنیکل وجوہات ہیں جن کے بارے معاشرہ میں آگہی پیداکرنے کی ضرورت ہے جسکے لئے این جی اوز اور رضاکار ان کو اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہونگی۔ اس موقع پر ملک مختار عباس ، ڈاکٹر عطیہ، فاطمہ اقبال اور ڈاکٹر ریاض نول نے بھی خطاب کرتے ہوئے خواتین پر زور دیا کہ وہ ماں اور بچے کے ہفتہ کے دوران حکومت کی طرف سے مفت فراہم کردہ ویکسین اور ٹیکوں کا کورس مکمل کروائیں۔

Azhar Abbas Adil Speech

Azhar Abbas Adil Speech