پتھر بھی پِگھل جائے گا

Stone Melted

Stone Melted

اپنے اخلاق کی عظمت کو بڑھا کر دیکھیں
تجربہ ہے میرا پتھر بھی پگھل جائے گا
ماجد دیو بندی کے اس شعر سے کہ جس موضوع کا عنوان بھی ”پتھر بھی پِگھل جائے گا ” سے ابتدا ہے ۔ دوستی باہمی محنت، ریاضت اور مشقت کا ثمر ہوتی ہے۔ دوستی کے لیے ایثار بار بار اظہار اور تکرار و تجدید کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہ کام محنت طلب ضرور ہے اور اس میں وقت بھی زیادہ صَرف ہوتا ہے مگر عمل کے بغیر یہ ممکن نہیں، اس لئے دل کی اتاہ گہرائیوں سے التجا ہے ان تمام ہستیوں، ان تمام احباب اور ان تمام سیاست کے میکنوں، دانشوروں، میڈیا کے ذمہ داروں سے کہ خدارا ”دوستی ” کو پروان چڑھایئے تا کہ ہمارے ملک میں یہ افرا تفری ختم ہو۔

یہ دگر گوں حالات کا خاتمہ ممکن ہو، یہ قتل و غارت گری کا کھیل بند ہو، یہ فرقہ بندیاں ناپید ہوں، دوستی کے ذریعے ہی ہی ہم پھر سے اپنے وطن کو پھلتا پھولتا دیکھیں، اپنے وطن کے اکائیوں کا ایک اکائی کی صورت میں وجود بخشیں، بس اب بہت ہو چکا انسانی جانوں کی ہولی کا کھیل، اب تو شاید ہی کوئی گھر بچا ہو جہاں ماتم نہ ہوا ہو، جہاں آنسو نہ بہے ہوں، جہاں تدفین نہ ہوئی ہو، جہاں ایک ماں اپنے بیٹے کیلئے ، جہاں ایک باپ اپنے بیٹے کیلئے، جہاں ایک بہن اپنے بھائی کیلئے، جہاں ایک بیوی اپنے شوہر کیلئے نہ روئی ہو۔

سوچتا ہوں تو اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ شاید ہماری تہذیب آج تک فرد افروزی کے اس مرحلے پر نہیں پہنچی جہاں سے عقل پروری نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا کہ آج بھی عقلی رویوں کا روز مرہ زندگی مین عمل دخل آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ان حالات میں ترقی پسندی، روشن خیالی، عقل پروری اور عقل دوستی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمسایوں کے خلاف، حالتِ جنگ میں رہنے کے بجائے ناداری، افلاس، جہالت، جرائم ، انتہا پسندی، دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کے خلاف جنگ شروع کریں کہ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ترقی پسندی، روشن خیالی، اور دوستی کی ازحد ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں جن حالات میں بھی ہوں فرد افروزی اور دوستی کے فروغ کیلئے دامے درمے سُخنے جو کچھ بھی ہم سے بن پڑے اسے کرنا چاہیئے کہ ہمارے دلوں میں جو نفرت کی میل جم گئی ہے اسے امن و محبت، انصاف ، مساوات، رواداری اور جمہوریت کا چراغ جلائیں۔ فیض صاحب کا یہ شعر یہاں تحریر کرنا چاہوں گا کہ:
یہ بھی سچ ہے کہ کڑی دھوپ میں چلنا ہے مجھے
اور وہ سایہ فگن مجھ پہ ہے یہ بھی سچ ہے

کیاعہد تاریک کے مخالفین کے مقابل ڈٹ جانے والے افراد آپ کو آج کہیں نظر آتے ہیں؟ ہمارے اِرد گِرد آج افہام و تفہیم، سیکولرزم، خیر سگالی، عدم تشدد، بھائی چارہ اور خوشحالی نام کی کوئی چیز ہے اور کیا وہاں شرافت، عظمت، عروج، ترقی، حقیقت پسندی، دیانتداری، وقار، شائستگی ، خوش نیتی اور امن پسندی کو دن دہاڑے قتل نہیں کر دیا گیا؟شاید نہیں اسی لیئے تو کہہ رہا ہوں کہ خدارا دوستی جیسے مضبوط رشتے کو پروان چڑھایئے تاکہ نفرتوں کا بویا ہوا یہ بیج بنجر زمین میں ہی دفن ہو جائے۔

ایسے دورِ کشا کش کے گرداب میں اہلِ وطن و ملت پھنسی ہے کہ ہر سُو مسلح گروپ ہی دکھائی دیتے ہیںجہاں حب الوطنی کی بات سننے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ نظریاتی کشمکش کے اس دور میں ہماری کشتی پھنسی ہوئی ہے اور ایسے میں اہلِ وطن کو اگر ضرورت ہے تو روزگار کی، امن و امان کی، روٹی کی، سُکھ اور چین کی بانسری کی، کاروبار کی،اور ہمارے فکر و خیال کو بدلنے والے ایک نیک، حب الوطن، جانباز سالار کی تاکہ ملکی باگ ڈور سنبھل سکے، ملک اونچائی کی طرف جا سکے،اور سب سے بڑھ کر ہمارا وطن واقعتاً اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلا سکے اگر صحافت کی بات کی جائے تو جس طرح آج تک قلم کے چاہنے والوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں ، قلم کے ذریعے ملک کی رگوں میں آزادی کی حرارت پہنچائی ہے، آج بھی ضرورت اس امر کی ہی ہے کہ قلم کے ذریعے ”دوستی ” جیسے مضبوط رشتے کیلئے اپنا فرض نبھائیں اور سب اکائیوں کو مذاکرات کے میز پر لانے کیلئے تسلسل کے ساتھ اپنے قلم کی طاقت کو استعمال کریں تاکہ امن و امان لوگوں کو میسر آ سکے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اُسی طرح رہنے لگیں جیسے پہلے رہتے تھے، دوستی ویسی ہی ہو جائے جیسے پہلے تھی، اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم چاہے کوئی بھی زبان بولتے ہوں ہیں تو پاکستانی……اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم دوسرے ملکوں کو اپنے حال پر ہنسنے کا موقع فراہم نہ کریں ” جیسا کہ آج دنیا ہم پر ہنسنے کے دَر پہ ہے”۔

انسانوں کا خون ناحق اس طرح بہایا جا رہا ہے جیسے جنگلوں میں لکڑیاں کاٹنے والے درختوں کو کاٹ کر پھینک دیتے ہیں۔ آج تو صورتحال ایسی ہی ہے کہ حیوانوں سے زیادہ انسانوں سے ڈر اور خوف محسوس ہوتا ہے۔ پتہ نہیں کب کس پر کوئی بے نام سی گولی چل جائے اور بندہ زمین پر ڈھیر ہو جائے۔ ایک دور تھا جب ہمارے آبائو اجداد کی زندگیاں صدیوں پر محیط ہوا کرتی تھیں وہ سینکڑوں برس زندہ رہ کر انسانیت کی خدمت کیا کرتے تھے اور اس کا درس بھی دیتے تھے لیکن موجودہ دور میں ہمارے وطن کے لوگ پوری طرح شباب پر ہنچنے بھی نہیں پاتے کہ انہیں گِرا دیا جاتا ہے۔وہ وقت گیا جب انسان زر، زمین اور مکان کے لئے مارے جاتے تھے آج تو مرنے والے کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ اسے کیوں مارا جا رہا ہے اور مارنے والے کو بھی اسی طرح پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیوں مار رہا ہے یوں وہ بے بس و لاچار کٹتے ہی چلے جا رہے ہیں، ان کی کوئی داد رسی کرنے والا ہی نہیں ، ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کون کب آئے گا یہ تو رب العزت ہی جانتا ہے۔

کاش کہ کوئی دن ایسا آجائے کہ جب پَو پھوٹتے ہی نیلگوں آسمان کے نیچے بسنے والے یہ باسی ”امن و امان ” دیکھیں ، طلوعِ آفتاب کی نرم و نازک کرنوں کے ساتھ سکون کا سانس بھی لے سکیںاور اہلِ وطن کا ہر باسی ہوا کے تازہ جھونکوں سے لطف اندوز ہو سکے اور دور تک نکل جائے جہاں اسے کسی قسم کا کوئی خطرہ محسوس نہ ہو۔ حاصلِ مضمون یہ ہے کہ ہربُرے کام اور ہر بُرے عمل کی روک تھام کے لئے اب لازمی ہے کہ کوششیں اور جد و جہد اربابِ اختیار تیز کردیں کیونکہ کوشش اور جد و جہد کے ذریعہ ہی اصلاح معاشرہ ممکن ہوگا۔امن و سکون نصیب ہوگا، ہر بُرے عمل سے نجات مل سکے گا اور ملک کے باسیوں کو چین کی بانسری میسر ہو سکے گی جس میں ڈر خوف کا کوئی علامت نہیں ہوگا۔ہر طرف دوستی ہی دوستی کا پیمانہ ہوگا،اسی لئے تو کہا گیا ہے کہ ”پتھر بھی پِگھل جائے گا” صرف اس کی جستجو اور انصاف کی ضرورت ہے۔
خواہش سے نہیں گِرتے پھل جھولی میں
وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا
کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو بُرا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا

تحریر : جاوید اقبال صدیقی