ہمدردی (ماخوذ از ولیم کو پر )

hamdardi

hamdardi

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا

کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گزارا

پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا

سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا

اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے

علامہ محمد اقبال