افغان صدارتی انتخابات، طالبان کی دھمکیوں کے باوجود پولنگ جاری

Afghan Presidential Elections

Afghan Presidential Elections

قندھار (اصل میڈیا ڈیسک) افغانستان میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ووٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ قندھار میں ایک پولنگ اسٹیشن کے نزدیک دھماکے کے باعث پندرہ افغان شہری زخمی ہو گئے۔ طالبان کی دھمکیوں کے باعث ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہنے کا خدشہ ہے۔

افغانستان میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ طالبان اور امریکا کے مابین امن مذاکرات معطل ہونے کے بعد طالبان نے اپنے جنگجوؤں کو انتخابات میں خلل ڈالنے کی ہدایات دی تھیں جس کے باعث ٹرن آؤٹ کم رہنے کا اندیشہ ہے۔ کابل حکومت نے طالبان کی دھمکیوں کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت اقدامات کر رکھے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ کے مطابق ملک کے پانچ ہزار پولنگ مراکز کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے 72 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

حفاظتی انتظامات کے باوجود ملک کے جنوبی شہر قندھار میں پولنگ شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پندرہ افراد زخمی ہو گئے۔

ملکی الیکشن کمیشن کے مطابق افغانستان میں ووٹ ڈالنے کے اہل شہریوں کی تعداد 9.6 ملین سے زائد ہے۔ افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی اور ملکی چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سمیت 18 امیدوار صدارتی دوڑ میں شامل ہیں۔

اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سمیت دیگر امیدواروں نے ملک بھر میں انتخابی مہم چلائی تھی تاہم مبصرین کی رائے میں طالبان کی دھمکیوں کے تناظر میں کئی ووٹر خوف کا شکار ہیں اور انتخابی عمل میں شمولیت سے گریزاں ہیں۔

افغان طالبان اور امریکا کے مابین ملک میں قیام امن کے لیے مذاکرات نو طویل نشستوں کے بعد گزشتہ ماہ ہی معطل کر دیے گئے تھے۔ طالبان نے اس سارے عمل کے دوران کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ صدر اشرف غنی کی حکومت ملکی صدارتی انتخابات سے قبل امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدے کی مخالفت کرتی رہی تھی۔