افغانستان کے ساتھ کشیدگی ختم ہو گئی ہے: سرتاج عزیز

Sartaj Aziz

Sartaj Aziz

اسلام آباد (جیوڈیسک) وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پرامن ہمسائیوں کے بغیر معاشی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کر سکتے۔ مقاصد کے حصول کیلئے خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔

بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ خصوصاً تجارت اور معیشت کے شعبوں میں آزادانہ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ ڈرون حملوں کے مسئلے پر حکومت کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

خارجہ امور اور قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پرامن ہمسائیگی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کافی پیشرفت ہوئی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم پرامن ہمسائیوں کے بغیر معاشی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کر سکتے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ان مقاصد کے حصول کیلئے خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ گزشتہ دو سال سے جاری کشیدگی ختم ہو گئی ہے اور دو طرفہ معاشی اور تجارتی تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ مشیر نے کہا کہ بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سرتاج عزیز نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ خصوصاً تجارت اور معیشت کے شعبوں میں آزادانہ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ چین سے تعلقات سے متعلق انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے سب سے پہلے چین کا دورہ کیا اور اقتصادی راہداری کا اہم منصوبہ شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ روس، لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایک سوال پر سرتاج عزیز نے کہا کہ حکومت نے ڈرون حملوں پر واضح موقف اختیار کیا ہے اور اس مسئلے پر حکومت کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔