ہماری باری کب آئے گی؟

Sindh Assembly

Sindh Assembly

سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر محترمہ شہلا رضانے بیچ چورا ہے بھانڈاپھوڑتے ہوئے کہہ دیاکہ ”NROمیں طے پایا تھا کہ پاکستان میں تین عام انتخابات تک مارشل لاء نہیں لگے گا۔اِس معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت امریکہ،برطانیہ،متحدہ عرب امارات اورخود فوج نے دی تھی”۔اِس سے پہلے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے پرویزمشرف کے بارے میں معاہدے کا انکشاف کرکے اپنی ہی پارٹی کو”وَخت”میں ڈالے رکھا اوراب شہلا رضا نے دھماکہ کردیا۔گیلانی صاحب کے بارے میں تو پتہ نہیںلیکن شہلا رضا نے جو کہا سچ کہا کیونکہ خواتین”جھوٹ”کم کم ہی بولتی ہی۔

اُن کے جھوٹ بھی بہت معصومانہ ہوتے ہیں،مثلاََاگرسالن میںغلطی سے دوبار نمک ڈَل جائے تویہ کہہ دیناکہ اب کی بار”مُوا”نمک ہی خالص آگیا ہے یا پھرچولہے پہ ہنڈیاجَل جائے تو محکمہ سوئی گیس کو کوسنے دینے بیٹھ جاناکہ یکلخت گیس کا پریشرزیادہ کرکے ہنڈیاجلا دی۔بڑے بڑے جھٹ بولنا مَردوں کا شیوہ ہے۔ہمارے رہنماجب الیکٹرانک میڈیا پہ بیٹھتے ہیںتواتنی لمبی لمبی چھوڑتے ہیں کہ بے ساختہ ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔

شہلا رضا ایک تو خاتون ہیں اور دوسرے پیپلزپارٹی کی ”جیالی”اِس لیے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اُس نے سچ کہا ہے۔اب پیپلز پارٹی لاکھ”رَولا”ڈالے کہ شہلا رضا کا بیان غلط، گمراہ کُن اور حقائق کے منافی ہے لیکن سانپ تو نکل گیا،لکیر پیٹنا کارِ بیکار۔ نواز لیگ والے بغلیںبجا رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی ایک دفعہ پھر NRO کی”کڑکی”میں پھنس گئی اور وہ بھی اپنی ہی”جیالی”کے ہاتھوں۔یوں تونوازلیگ کا این آر اوسے دورکا بھی واسطہ نہیںتھا لیکن یہ ضرور ہواکہ جب محترمہ بینظیر شہید کواسی این آراوکے تحت پاکستان میںداخلے کی اجازت ملی تومیاںبرادران کی پاکستان آمدکی راہیں کھُل گئیں۔

اُس وقت پرویز مشرف نے زورتو بہت مارا کہ میاںفیملی پاکستان نہ آسکے لیکن سعودی شاہ نے یہ کہہ کر صاف انکارکر دیاکہ اگر بینظیر صاحبہ پاکستان جا سکتی ہیں تو پھر میاں برادران کو روکنے کا بھی کوئی جواز نہیں۔

میاںبرادران بھی”میثاقِ جمہوریت ”کے تحت جانتے ہی ہونگے کہ”آقاؤں”نے جمہوریت کو فقط پندرہ سال دیئے ہیں۔اسی طرح ہمارے کپتان صاحب کوبھی سابق آئی ایس آئی چیف جنرل احمد شجاع پاشا نے بتلا دیا ہو گاکہ”وقت کم ہے اور مقابلہ سخت”۔ اسی لیے ہمارے کپتان نوازلیگ کے”ترلے”کرتے رہے کہ”میاں جی ہُن جان دیو،ساڈی واری آن دیو”۔شایداُن تک بھی یہ خبرآن پہنچی ہوگی کہ اب نوازلیگ کی باری ہے اسی لیے وہ ہمیشہ اپنا سارا زور نواز لیگ پر ہہی صرف کرتے رہے۔

ویسے ہم”سونامیوں”کے آنگن میںبھی اقتدارکے پھولوںکی بہارآجاتی اگرجنرل پاشا کومدت ملازمت میںتوسیع مل جاتی۔پیپلزپارٹی توتوسیع کے لیے تیارتھی لیکن سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی آڑے آگئے اورہمارے خواب ادھورے رہ گئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے توکپتان صاحب نے اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعدپوچھ لیا کہ”وہ کتنے میںبِکے؟”لیکن جنرل کیانی کے بارے میںتا حال خاموش ہیں حالانکہ ریٹائروہ بھی ہوچکے ہیںاورہماری وزارتِ عظمیٰ کے خوابوںکو چکنا چورکرنے والے بھی وہی۔بس ایک فوج ہی باقی بچی ہے۔

جس پرخاں صاحب نے الیکشن میںدھاندلی کاالزام نہیںلگایالیکن اب شاید یہ الزام بھی لگ جائے کیونکہ نوازلیگ نے یکم اگست سے تین ماہ کے لیے اسلام آباد کوآرٹیکل245کے تحت فوج کے سپرد کر دیا ہے۔اب اسلام آباد کی حفاظت فوج کی ذمہ داری ہے اور فوج اِس سلسلے میںجو بھی قدم اٹھائے اُسے پاکستان کی کسی بھی کورٹ میںچیلنج نہیں کیا جا سکتا۔اُدھرہمارے خاںصاحب تخت گرانے اور تاج اچھالنے کا ارادہ باندھ کر14 اگست کوعازمِ اسلام آباد ہونے والے ہیں۔اب تحریکِ انصاف کا مقابلہ نوازلیگ نہیںفوج کے ساتھ ہے۔

اِس کے باوجودہ میں یقین ہے ہمارے کپتان کے بڑھتے قدم کوئی روک نہیں سکے گا اور ہمیں بھی یہ کہنے کا موقع مِل جائے گا کہ 2013ء کے الیکشن کی دھاندلی میںفوج بھی برابر کی شریک ہے اورہم فخر سے یہ کہہ سکیںگے کہ”سارے رَل کے سانوںپے گئے نیں۔

Democracy

Democracy

شہلا رضا کے اِس انکشاف کے بعدیہ عقدہ بھی وا ہوا کہ ہم”ایویں خواہ مخواہ”آمروں کو موردِ الزام ٹھہراتے رہے حالانکہ وہ بے چارے تو”آقا”کے حکم پرہی سرِ تسلیم خم کیا کرتے رہے اوراب چونکہ آقا کا حکم ہے کہ تین عام انتخابات تک ”بی بی جمہوریت” سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی اِس لیے مارشل لاء کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔ اِس معاہدے کے تحت صورتِ حال کچھ یوں بنتی ہے کہ”باریوں”کی اِس تقسیم میںپہلی باری پیپلزپارٹی،دوسری نوازلیگ اورتیسری پھر پیپلز پارٹی۔

جنابِ آصف زرداری کو یہ خطرہ تھا کہ اگر عین موقعے پر امریکہ نے بھی کہہ دیا کہ”وعدے قُرآن وحدیث نہیں ہوتے”تو پھراُنکا کیا بنے گا۔اسی لیے وہ حفظِ ما تقدم کے طور پر تجدیدِ عہدکی خاطر قبل از وقت ہی امریکہ جا بیٹھے۔لیکن امریکی تو”قول کے سچے”اورکھَرے لوگ ہیںاِسی لیے اُنہوںنے نہ صرف تجدیدِ عہد کیا بلکہ صدر نہ ہوتے ہوئے بھی جنابِ زرداری کو صدارتی پروٹوکول دیا اور ازراہِ تفنن بھی اُن سے یہ تک نہیں پوچھا کہ اُن کے نزدیک ”وعدوںکی حقیقت”کیا ہے۔اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو پھرسوال پیدا ہوتا ہے کہ” ساڈی واری کِتھے گئی؟۔

ہمارے کپتان صاحب اچھی طرح سے جانتے ہیںکہ پیپلزپارٹی اتنی وسیع ظرف نہیں کہ حکومت سونامیوںکے سپردکردے۔اسی لیے وہ نوازلیگ سے حصولِ حکمرانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یوں تو میاں برادران وسیع الظرف ہیںہی لیکن اتنے بھی نہیں کہ اپنی باری کا ہی”جھٹ کا”کروا دیتے۔ پھر بھی اُنہوں نے کمال مہربانی کرتے ہوئے حکومت میںخیبرپختونخوا نامی ایک چھوٹا سا”داغدار”حصّہ خاںصاحب کے سپردکرکے یہ ثابت کردیا کہ اُنہیںمِل بانٹ کر کھانے کی عادت ہے۔

ویسے یہ عادت بھی جَلاوطنی کے بعدہی پیدا ہوئی،پہلے تووہ اقتدارکی”ریوڑیاں”آپس میںہی بانٹ لیا کرتے تھے۔نواز لیگئے کہتے ہیںکہ اُنہوں نے توخاںصاحب کوخیبرپختونخوا کی حکومت اِس لیے دی تھی کہ وہ”آدابِ سلطانی”سیکھ سکیں تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے لیکن خاںصاحب کو تو جلدی ہی بہت ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ جلدی کیوںنہ ہو،اگر نوازلیگ پانچ سال پورے کرگئی تو پھر ہماری باری تو کبھی نہیں آئے گی۔ اسی لیے خاںصاحب نے بَرملا کہہ دیا ہے کہ وہ 14 اگست کواسلام آبادمیں ٹونٹی، ٹونٹی نہیں، ٹیسٹ میچ کھیلنے جا رہے ہیں اور واپس تبھی لوٹیں گے جب”تاجِ سلطانی”اُنکے سر پرہوگا۔

Professor Riffat Mazhar

Professor Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر