بلوچستان بدامنی کیس، آئی جی ایف سی کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس

Supreme Court

Supreme Court

اسلام آباد (جیوڈیسک) سپریم کورٹ میں دو رکنی بنچ نے بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی۔ آئی جی ایف سی کے وکیل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی ایف سی پیش ہو گئے ہیں لہٰذا توہین عدالت کا نوٹس خارج کیا جائے۔

جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیے کہ 5 دسمبر کو میجر جنرل اعجاز شاہد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا۔ آئی جی ایف سی اس سے پہلے بھی دو مرتبہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔ ذاتی حیثیت میں پیش ہونے پر آئی جی ایف سی کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جاتا ہے۔ آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد نے کہا کہ ایف سی پر لوگوں کے اغواء کے الزامات غلط ہیں۔

جسٹس ناصر الملک نے استفسار کیا کہ آپ نے اس حوالے سے کیا کیا؟۔ آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ وہ لوگوں کے اغواء کا داغ مٹانے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا ایک لاپتہ شخص کوہ خان برآمد ہو گیا ہے جس کے اغواء کا الزام ایف سی کے چھ اہلکاروں پر تھا۔

کوہ خان کو پولیس نے برآمد کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایف سی پر اغواء کا الزام غلط ہے۔ جسٹس ناصر الملک نے ریمارکس دیے کہ جو کچھ کہنا ہے لکھ کر دیں۔ کیس کی سماعت پندرہ جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔