رشوت دے اور چھوٹ جا

Bribe

Bribe

ہمارہ معاشرہ اخلاقی، سماجی، معاشرتی، معاشی لحاظ سے تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہے، اس معاشرتی بگاڑ کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ اب تک ہم اس کا تعین نہ کر سکے۔ سب ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ بعض اس کا ذمہ دار حکومت کو بعض مذہبی و سیاسی رہنماوں کو اور عوام کو ٹھہرا تے ہیں۔ہم اس معاشرے کی بہت سی برائیوں میں سے ایک ناسور رشوت کو لیتے ہیں۔

رشوت خوری نے اس ملک کی اخلاقی و سماجی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔اب ناجائز کام کے علاوہ جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا، اوپر سے لے کر نیچے تک محکمہ تعلیم سے لے کر پولیس تک سبھی محکمے اس لعنت میں گرفتار ہیں ۔سرکاری ملازمین تو رشوت کو اپنا حق خیال کرتے ہی تھے اب تو پرائیویٹ اداروں میں بھی کوئی کام بغیر رشوت کے نہیں ہوتا ۔دیکھا جائے تو معاشرے کی بہت سی برائیوں کا ذمہ دار رشوت خور ہی ہے ۔آج اگر بازار میں ملاوٹ سے پاک اشیاء کا وجود ختم ہو چکا ہے تو اس کی وجہ رشوت خور فوڈ انسپکٹر ،اور انتظامیہ ہی ہے ۔جو رشوت لے کر ملاوٹ شدہ اشیاء کو بازار میں فروخت کرنے کی اجازت دیتے ہیں جس سے صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اسی طرح ادویات بھی خالص دستیاب نہیں ہوتیں تو اس کی وجہ بھی رشوت ہی ہے۔

Inflation

Inflation

اگر اس سے وابستہ عملہ رشوت نہ لے تو کوئی تاجر یا عوام ملاوٹ کرنے کی جرات نہ کرے۔رشوت خور پولیس والے شرابی اور جواری سے رشوت لے کر ان کو شراب اور جوئے کی اجازت دے دیتے ہیں۔پولیس کی سرپرستی اور تعاون کے بغیر شراب اور جواء کے اڈے نہیں چل سکتے ۔ اور نہ ہی ڈاکو اور چور اتنی دیدہ دلیری دکھا سکتے ہیں۔ مہنگائی کے بڑھنے کا ذمہ دار بھی رشوت خور ہے کہ وہ گراں فروش تاجروں سے مال لے کر ان کو ذخیرہ اندوزی کرنے کی اجازت دیتا ہے جس سے بازار میں اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے اور پھر اسی بازار میں اشیاء مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں ۔رشوت کی وجہ سے معاشرے میں دیگر بہت سی برائیاں پھلتی ہیں جن میں سے جھوٹ، ملاوٹ، گندگی، شراب و جوا،منشیات، سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، ناجائز تجاویزات، ڈاکہ زنی، چوری، قتل، بدعنوانی، جائز کاموں میں تاخیر،حادثات میں اضافہ کیوں کہ ناتجربہ کاروں کو رشوت لے کر ڈرائیونگ لائسنس دے دیے جاتے ہیں اور قانون سے بے خوفی وغیرہ بقول شاعر

رشوت لے کر پھنس گیا ہے
رشوت دے اور چھوٹ جا

عام طور پر سرکاری ملازمین(سبھی نہیں) زیادہ رشوت خور ہوتے ہیںاور ان کے پاس اس کا عذر بھی ہوتا ہے اول یہ کہ رشوت لینا ہماری مجبوری ہے کیوں کہ اپنے آفیسروں کی خاطر تواضع کرنا ہوتی ہے اس کے علاوہ کلائنٹ (سائل) اپنے کام ہو جانے کا یقین ہی تب کرتا ہے جب اس سے معاوضہ (رشوت) لی جائے پھر ہر کام کو جلد از جلد کروانے کی ایک وجہ بھی ہوتی ہے۔سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ اتنی تنخواہ میں ان کا گزارہ نہیں ہوتا مجبوری ہے رشوت لینا۔حالانکہ سرکاری ملازم کو پنشن،اور دیگر بہت سی سہولیات بھی حکومت دیتی ہے اور تنخواہ بھی اتنی کم نہیں ہوتی کہ جب اتنی تنگی ہو کہ بندہ حرام کھانے پر مجبور ہو جائے ۔سرکاری ملازم سے کہیں کم تنخواہ پرائیویٹ اداروں میں ملتی ہے ،نجی اداروں کے ملازمین کو 8 ہزار تک تنخواہ ملتی ہے حالانکہ حکومت نے 12 ہزار کا بجٹ میں اعلان کیا ہوا ہے ،وہ انتہائی مشکل سے زندگی بسر کرتے ہیں اور بہت سے رشوت نہیں لیتے۔

اصل میں رشوت لینے اور نہ لینے کا تعلق خوف خدا اور فکر آخرت ہے اور جن کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو ان کو نہ تو خوف خدا ہوتا ہے اور نہ ہی فکر آخرت ۔بعض لوگ رشوت لیتے ہیں اور پھر اس حرام کمائی سے حج کرتے ہیں، خیرات کرتے ہیں، مسجد بناتے ہیں اور ایسے بہت سے کام کرتے ہیں فلاح انسانیت کے لیے ایسے لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اللہ سبحان و تعالی کو دھوکہ نہیں دے سکتے اس سے کچھ چھپا نہیں ہے ۔رشوت خور کی نہ نماز نہ حج نہ روزہ نہ زکوة اور نہ ہی کوئی اور نیک کام قبول ہوتا ہے حضرت سفیان ثوری رضی اللہ نے فرمایا ہے کہ حرام کمائی سے خیرات کرنا ایسا ہی ہے جیسا بیشاب سے ناپاک کپڑے کو دھویا جائے ۔قانون فطرت یہ ہے کہ حرام کمائی سے پرورش سے بدی پھوٹتی ہے۔

Hazrat Muhammad PBUH

Hazrat Muhammad PBUH

مثلا مکر و فریب، بے وفائی، دولت پرستی، بے رحمی، وغیرہ وغیرہ رشوت خور نہ صرف قوم و ملک کا دشمن ہے بلکہ اپنا اور اپنے خاندان ماں باپ،بہن بھائی اور بچوں کا بھی دشمن ہے کہ ان کو حرام کھلاتا ہے حرام مال سے ان کی پرورش کرتا ہے جس سے اپنے ساتھ ان کو بھی جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتا ہے۔رسول اکرم ۖ نے مختلف احادیث میں رشوت خور کو جہنمی، لعنتی اور کافر تک کہا ہے۔اس بات سے ہر مسلمان کو آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ ہمارے آقا ۖ کا فرمان ہے اور رشوت سے توبہ کر لینی چاہیے ہمارے علما کو بھی ان جیسے معاشرتی ناسوروں کے خلاف زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہی دینی چاہیے اور میڈیا مثلا اخبارات و رسائل میں بھی یہ اور ان جیسی برائیوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ جگہ دی جائے۔

تحریر: اختر سردار چودھری، کسووال