شہر قائد کے تاجروں کو تحفظ فراہم کیا جائے، تاجر الائنس کا ہنگامی اجلاس

Meeting

Meeting

کراچی : کراچی تاجر الائنس ایسوسی ایشن کا شہر قائد میں بڑہتی ہوئی اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتوں پر ہنگامی اجلاس، اجلاس میں چیئرمین ایاز میمن موتی والا، جنرل سیکرٹری معراج احمد خان سمیت تاجروں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس موقع پر حیدری مارکیٹ کراچی میں ہونے والی نقب زنی کی واردات اور بڑہتے ہوئے اسٹریٹ کرائم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایاز میمن موتی والا کا کہنا تھا کہ کراچی میں تاجر بے یارو مددگار ہیں ، کاروبار کر نا ناممکن ہو گیا ہے، پہلے ہی مہنگائی نے مارکیٹ میں سناٹے ڈالے ہوئے ہیں اوپر سے آئے روز ہونے والی وارداتوں نے تاجروں کو مزید پریشان کر دیا ہے، رمضان المبارک میں بھی اسٹریٹ کرائم ہوتے رہے اور شہر قائد میں جرائم پیشہ افرادکا راج رہا، انہوں نے کہا کہ عید کی چھٹیوں کے دوران حیدری مارکیٹ میں سونے کی دکان میں نقب زنی کی واردار ت امن و امان قائم کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، اس شہر میں نہ تو کوئی پید ل چلنے والا شخص محفوظ ہے اور نہ ہی دکان کھول کر کاروبار کرنے والا، انہوں نے کہا کہ تاجر امن و امان کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

شہر کے امن کو ماضی کی طرف دھکیلا جارہا ہے، روز انہ کی بنیادوں پر ہونے والے اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتیوں پر کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی بلکہ معاملہ سیاست کی نظر ہوجاتا ہے، ایک عرصے سے جاری اس شہر میں اختیارات کی جنگ میں عوام اور کاروباری افراد کا نقصان ہو رہا ہے، ضلعی انتظامیہ، سندھ پولیس اور دیگر تمام ادارے عوام کو سیکورٹی دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ، پولیس سیاست دانوں کو سیکورٹی دینے میں لگی ہوئی جبکہ ایک عام آدمی اور تاجر برادری جو کہ شہر کی ترقی میں ایک اہم کردار اداکرتے ہیں وہ بے یار ومدگار ہیں ، ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حیدری مارکیٹ میں ہونے والی واردات میں ملوث افراد کو پکڑ کر کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو کراچی تاجر الائنس ایسوسی ایشن اپنے نئے لاءحہ عمل طے کرے گی جس میں جرائم پیشہ افراد اور امن و امان کی ناقص صورتحال کیخلاف پورے شہر میں احتجاج کیا جائے گا اور اگر ہمارے جائز مطالبات کو فی الفور پورا نہ کیا گیا تو احتجاج کے دائر ے کو مزید وسیع کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ تاجروں نے کراچی کے امن و امان کے لیے جانی ومالی قربانیاں دی ہیں ، حالیہ نقب زنی کی واردات سے قبل بھی ایسی کئی وارداتیں اس شہر میں ہوئی ہیں جس میں نہ تو مجرموں کو پکڑا گیا اور نہ ہی تاجروں کے نقصان کا ازالہ کیا گیا ہے، آخر تاجر کب تک ایسے نقصانات برداشت کرتے رہیں گے، کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے اتنا تو کما نہیں رہے جتنا لٹ جاتا ہے ، حیدری مارکیٹ میں ہونے والی نقب زنی کی واردات میں ملوث افراد کے خلاف بھرپور قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔