fbpx

کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین، یورپی یونین کی اہم ڈیل

Coronavirus Vaccine

Coronavirus Vaccine

یورپی یونین نے کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین خریدنے کے لیے فرانسیسی فارماسوٹیکل کمپنی زانوفی کے ساتھ ایک ڈیل طے کر لی ہے۔ اس ویکسین کو کووڈ انیس سے نمٹنے کے سلسلے میں جاری کوششوں میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپی یونین اور فرانسیسی فارماسوٹیکل کمپنی زانوفی ایک اہم ڈیل پر متفق ہو گئے ہیں، جس کے تحت زانوفی کورونا وائرس ویکیسن کی تین سو ملین خوارکیں یورپی یونین کو فراہم کرے گی۔ جمعے کے دن یورپی کمیشن نے اس بابت اعلان کیا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق فرانسیسی دوا ساز کمپنی کووڈ انیس سے نمٹنے کی خاطر ویکسین کے تیاری کے آخری مراحل میں ہے اور قوی امید ہے کہ یہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف کارآمد ثابت ہو گی۔

جب اس ویکسین کے مؤثر اور محفوظ ہونے کے بارے میں تصدیق کر دی جائے گی تو یورپی یونین کے ستائیس رکن ممالک اسے خرید سکیں گے۔ یورپی کمیشن کی صدر اورزلا فاب ڈیر لاین نے کہا کہ ابھی تک علم نہیں کہ یہ ویکسین کارآمد ہو گی، اس لیے یورپ ممکنہ ویکسین کے لیے سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔

یورپی کمیشن نے دو بلین یورو کا ایک فنڈ مختص کیا ہے، جس کی مدد سے چھ مختلف دوا ساز کمپنیوں سے کووڈ انیس کی ویکسین خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یورپی یونین ریاستوں کی مجموعی آبادی ساڑھے چار سو ملین کے لگ بھگ ہے، جن کو اس عالمی وبا سے محفوظ بنانے کی کوشش کا سلسلہ جاری ہے۔

کورونا وائرس سے عالمی سطح پر متاثرہ افراد کی تعداد 17.46ملین ہو گئی ہے۔ روئٹرز کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس دسمبر میں پھوٹنے والی اس عالمی وبا سے اب تک ہلاک شدگان کی تعداد چھ لاکھ چوہتر ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یہ وائرس دنیا بھر کے دو سو دس ممالک اور خطوں میں پہنچ چکا ہے۔ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکا بدستور پہلے نمبر پر ہے۔ ابھی تک اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کوئی دوا یا ویکسین سامنے نہيں آ سکی ہے۔

ایک تازہ پیش رفت میں جنوبی امریکی ملک میکسیکو ایسے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اس فہرست میں امریکا پہلے جبکہ برازیل دوسرے نمبر پر ہے۔ ادھر چین نے کہا ہے کہ ملک میں نئی انفیکشنز کی شرح میں پچاس فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

ویت نام عالمی وبا پر قابو پانے کے حوالے سے ایک کامیاب مثال تھا، لیکن حالیہ دنوں میں اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں بھی کورونا کے نئے کیسوں کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔

بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کووڈ انیس کے ستاون ہزار سے زائد نئے کیس رجسٹر کیے گئے ہیں، جو اس وبا کے پھوٹنے کے بعد کسی ایک دن میں سب سے زیادہ کیس بنتے ہیں۔

یوں بھارت میں اس وبا سے متاثرہ افراد کی مصدقہ تعداد سترہ لاکھ ہو گئی ہے، جن میں سے صرف جولائی کے دوران تقریباً گیارہ لاکھ کا اضافہ نوٹ کیا گيا۔

وزارت صحت نے ہفتے کے دن بتایا کہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چھتیس ہزار پانچ سو گیارہ ہو چکی ہے۔ ناقدین کے مطابق کورونا ٹیسٹ کی محدود سہولت کے باعث کہا جا سکتا ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔