ہمیں پاکستانی ڈریکولا بہت پسند ہیں

Dracula

Dracula

تحریر: سید انور محمود

انٹرنیٹ پر چلنے والی ڈریکولا کی ایک کہانی کو میں نے کچھ تبدیل کیا ہے، اُن دوستوں سے معذرت جن کے فیس بک پر یہ کہانی چل رہی ہے۔ بدلی ہوئی کہانی کچھ یوں ہے۔ ایک بحری جہاز پر ایک ڈریکولا انسانی روپ میں سوار تھا۔ رات ہوتے ہی وہ جہاز پر سوار کسی انسان کا خون پیتا اور یوں اپنی پیاس بجھاتا۔ ایک روز یہ بحری جہاز بیچ سمند میں کسی چٹان سے ٹکرا گیا۔یہ ڈریکولا بھی ایک آدمی کی مدد سے ایک لائف بوٹ پر سوار ہو گیا۔ لائف بوٹ پر صرف ایک ہی شخص تھا اور یہ ہی وہ شخص تھا جس نے اسے بچایا اور بوٹ یا کشتی میں آنے میں مدد کی۔ رات ہوئی تو ڈریکولا کو انسانی خون پینے کی پیاس ہوئی مگر سوچا اگر میں نے ایک دن میں ہی سارا خون پی لیا تو یہ مر جائے گا اور کوئی اسکے علاوہ ہے بھی نہیں، لہذا صرف دو گھونٹ ہی پیوں گا اور وہ بھی اس وقت جب وہ نیند میں ہو گا۔

تاکہ اس کی صحت پر کوئی واضع فرق بھی نہ پڑے اور میری پیاس بھی تنگ نہ کرے۔ یہ سوچ کر روزانہ اس نے دو دو گھونٹ خون پینا شروع کر دیا۔ ایک رات کافی رات گذرنے کے باوجود جب ڈریکولا نے اُس شخص کا خون نہیں پیا تو وہ بے چینی سے اٹھا اور ڈریکولا سےبولا تم خون کیوں نہیں پیتے۔ ڈریکولا حیرت سے بولا کہ تمھیں پتہ ہے کہ میں ڈریکولا ہوں اور تمھارا خون پیتا ہوں۔ وہ شخص بولا ہاں میں جانتا ہوں کہ تم ڈریکولا ہو کیونکہ انسان کسی کا خون نہیں پیتے۔ تم میرا خون پیو کیونکہ اب مجھے خون پلانے کی عادت ہو گئی ہے۔

دوہزار آٹھ یعنی پانچ سال قبل پیپلز پارٹی نے جب حکومت سنبھالی تو غربت کیساتھ اندرونی و غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا ، مشرف دور کے 34 بلین ڈالر کے قرضے پانچ سال میں 66 بلین ہوگے، 62 روپے کا ڈالر اب 100 روپے سے زیادہ کا ہے۔ روٹی کپڑااور مکان کا نعرہ لگاکر پانچ سال پیپلز پارٹی مسلسل عوام کا خون پیتی رہی۔ 2008 کے الیکشن جیتنے کے بعد پیپلز پارٹی نے صرف ایک منصوبہ پر کام کیا اور وہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوٹ مار کرو اور عوام کا خون پیو۔ آصف زرداری، دو وزیراعظم ، وفاقی اور صوبائی وزرا نے ملکر کرپشن اور بری گورننس کے حوالے سے ماضی کے کرپشن کےتمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔

اربوں روپے کی کرپشن کر کے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اورملکی معیشت کو مفلوج بناڈالا۔ آصف زرداری نے ایک کام یہ کیا کہ لوٹ مار میں دوسروں کوبھی شامل کرلیا تھا۔مسلم لیگ ق، اور ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ ملالیا جبکہ خیبر پختوخواہ میں اے این پی اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کو حکومت کرنے دی، آصف زرداری کو اتحادیوں اور فرینڈلی اپوزیشن کی ضرورت تھی کیونکہ اکیلے پانچ سال لوٹ مار کرنا مشکل تھا۔ بس پھر کیا تھا مغلوں کے رشتہ دار گیلانی، راجہ رینٹل اور باقی کوئی پیچھے نہ تھا، حتی کہ مولانا فضل الرحمان کوبھی انکا حصہ برابر ملتا رہا۔ خون پینے والوں کو اس بات کا قطعی احساس نہ تھا اور نہ ہے کہ ان حالات میں پاکستان کے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے یا پاکستان کسقدر پیچھےچلا گیا ہے۔

Pakistan

Pakistan

اب تھوڑا سا اس پاکستان کا حال بھی سن لیں جس کا مسلسل خون پیا جارہا ہے۔ آج پاکستان 18 کڑوڑ 35 لاکھ کی آبادی کے ساتھ دنیا میں چھٹے نمبر پر آتاہے۔ پاکستان کی 60 فیصد آبادی خط غربت کے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے،عالمی سطح پر خط غربت یومیہ دو ڈالر یا دو سو روپے آمدن کے برابر ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ ”ورلڈ ڈویلپمنٹ انڈیکیٹر“ کے مطابق پاکستان کے 60 فیصد افراد کی آمدن یومیہ دو ڈالر یا دو سو روپے سے بھی کم ہے، جبکہ اکیس فیصد آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے۔

پانی جو انسان کی بنیادی ضرورت ہے ، مگر پاکستان میں 60 فیصد عوام پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔ پانی میں آلودگی بڑھ رہی ہے جسکی وجہ سے کئی امراض میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جن میں ڈائریا، ٹائیفائڈ اور ہیپا ٹائٹس شامل ہیں۔ تعلیم کے شعبے پر ہماری حکومتیں کوئی توجہ نہیں دئے رہی ہیں بلکہ تعلیمی بجٹ میں مسلسل کٹوتی کی جارہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان میں تعلیم کا بجٹ 2.6 فیصد سے کم ہو کر 2.3 فیصد پر آگیا ہے اور یوں دنیا کی تعلیمی انڈیکس میں 120 ممالک میں سے پاکستان 113 نمبر پر ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اسکول میں داخل نہ کروائے جانے والے بچوں کی شرح سب سے زیاہ 61 فیصد ہےجبکہ سندھ میں یہ شرح 53 فیصد، خیبر پختونخواہ میں 51 فیصد اور بلوچستان میں 47 فیصد ہے۔ صحت کے شعبے کا حال یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اگرڈاکٹرمل بھی جایں تو دوا ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ملک میں لوگوں کی اکثریت کو صحت کی سہولتیں دستیاب نہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاق کی سطح پر وزارت صحت کا خاتمہ کر دیا گیا تاہم عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے کوئی بڑا منصوبہ شروع نہ کیاجاسکا ، پاکستان کوپولیو فری ملک بنانے کاخواب بھی پورا نہ ہو سکا۔ بجلی کی عدم دستیابی نے پورئے ملک کو ایک اذیت میں مبتلا کیا ہوا ہے، ہمارئے نئے وزیربجلی فرمارہے ہیں کہ بجلی تو تین سال بعد ملے گی مگر 300 یونٹ سے جو زیادہ استمال کرئے گا اُسکو دیکھیں گے کھائے کہاں سے کیونکہ حکومت میں آنے سے پہلے ہمارا وعدہ تھا کہ عوام کو سہولت دینگے مگر حکومت میں آنے کے بعد ہماری پارٹی کی اکثریت کا فیصلہ ہے

کہ جو قوم زرداری کی لوٹ مار اور غربت کو بڑھانے کے باوجود اسکو پانچ سال بغیر کسی چیخ و پکار کے برداشت کرسکتی ہے وہ بجلی کی قیمت کے اضافے کو بھی برداشت کرسکتی ہے، عوام کی اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کرکے ہی ہم حکومت میں آئے ہیں ۔ اب پارٹی کے فیصلے پر عمل کرنے کا وقت ہے لہذا اسکی ایک جھلک بجٹ میں عوام کو دکھادی ہے۔باقی اور بھی بہت کچھ ہے اس 18 کڑوڑ سے زیادہ آبادی کےلیے، کہاں تک سنوگے ، کہاں تک سناوں۔

ڈریکولا کا جب بھی تصور کرو تو سامنے یہ ہی نظر آتا ہے کہ مظلوم انسان کا خون پیاجارہا ہے پاکستان میں اس خیالی کردار کو حقیقت کا روپ ملا اور ایک ڈریکولا سسٹم یعنی خون پینے والا سسٹم ، اور اس سسٹم کے زریعے ہی گذشتہ 65 سال سے پاکستان کے عوام کا خون پیا جارہا ہے۔ ملک کے جاگیردار، سرمایہ دار، بیوروکریسی ، جنرل اور سیاستدان سب ملکر عوام کا خون پیتے رہے ہیں اور پی رہے ہیں۔ مگر لگتا ہے بحیثیت پاکستانی قوم ہمیں بھی خون پلانے کی عادت ہو چکی ہے، ہم اپنی خوشی اور مرضی سے خون پینے والوں کو منتخب کرتے ہیں اور پھر اپنا خون پلا پلا کر انہیں پالتے ہیں ، تاکہ اگلی دفعہ بھی انہیں خون پینے والوں کو منتخب کر سکیں ۔لگتا ہے ہمیں پاکستانی ڈریکولا بہت پسند ہیں۔

Syed Anwer Mahmood

Syed Anwer Mahmood

تحریر: سید انور محمود