بجلی و گیس چوری، پنجاب دیگر صوبوں سے آگے نکل گیا

اسلام آباد: بجلی اور گیس کی چوری میں پنجاب دیگر صوبوں کی دوڑ میں سب سے آگے نکل گیا بلز کی عدم ادائیگی میں سندھ کا پہلا نمبر ہے، چوروں کو پکڑنے کا آپریشن جاری، ایف آئی اے نے 100 سے زائد مقدمات درج کر لیے۔ حکومت نے بجلی اور گیس چوروں کو پکڑنے کی ذمہ داری ایف آئی اے کو سونپی تو ٹاسک فورس کے سربراہ حسین اصغر کی قیادت میں آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔

اب تک 100 سے زائد بجلی اور گیس چور پکڑے جا چکے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق وسطی پنجاب کے اضلا ع بجلی اور گیس چوری کے تمام ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ ورسٹ پرفارمنگ ڈسکوز میں سب سے پہلے سکھر اور حیسکو ہیں۔ لااینڈ آرڈر کی وجہ سے کوئٹہ اور کے۔ پی آتا ہے چوری جہاں زیادہ ہوتی ہے اس میں سینٹرل پنجاب کے ڈسکو ز،گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور ورسٹ کنڈیشن میں ہیں۔ ماہرین کاخیال ہے کہ اگر پاکستان میں بجلی، گیس کی چوری پر قابو پا لیا جائے تو توانائی کے مسائل کافی حد تک حل ہو سکتے ہیں۔

ایف آئی اے کے اندازے کے مطابق قومی خزانے کو بجلی اور گیس چوری کے باعث 2 سو ارب روپے سالانہ نقصان ہو رہا ہے۔ ہمار ٹوٹل لاس جو ہے وہ چوری میں صرف 200 ارب سالانہ سے زیاد ہ ہے۔ایف آئی اے کی تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بجلی اور گیس کمپنیز کے کچھ افسران ایسے بھی ہیں جو چوری کی گئی بجلی اور گیس کے بل سرکاری اداروں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں تا کہ کمپنی کے نقصانات کو کم دکھایا جا سکے، ایف آئی اے اب ان کالی بھیڑوں کو بھی پکڑنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔