fbpx

یورپی یونین میانمار پر پابندیاں لگانے پر تیار

Myanmar Protest

Myanmar Protest

یورپ (اصل میڈیا ڈیسک) یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ میانمار میں فوجی بغاوت کے پیچھے فعال مرکزی ملٹری افسران پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ادھر میانمار میں اس عسکری بغاوت کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے پیر 22 فروری کو کہا ہے کہ میانمار میں فوجی بغاوت کرنے والے مرکزی ملٹری افسران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کی جا چکی ہے۔

برسلز میں ایک کانفرنس کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ یورپی یونین میانمار میں یکم فروری کو ہونے والی فوجی بغاوت کے ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف ایکشن لینے کے تیار ہے۔

یورپی یونین بلاک کے وزرائے خارجہ نے مزید کہا کہ میانمار کی فوجی جنتا ملک میں کشیدگی کے خاتمے، اقتدار سول حکومت کو سونپنے اور گرفتار شدہ سیاسی رہنماؤں کو رہائی کو ممکن بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔

میانمار میں فوجی جنتا کی طرف سے سخت اقدامات کے باوجود فوجی بغاوت کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

آج پیر کے دن بھی ہزاروں مظاہرین نے ینگون کی سڑکوں پر نئے مظاہرے کیے جبکہ کاروبار زندگی معطل رہا۔ یکم فروری کی فوجی بغاوت کے بعد سے ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ہفتے کے دن ان مظاہروں کے دوران مزید دو افراد ہلاک ہو گئے۔

پیر یکم فروری 2021ء کے روز میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور آنگ سان سوچی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ یہ اقدام جمہوری حکومت اور فوج میں کشیدگی کے بڑھنے کے بعد سامنے آئے۔ میانمارکی فوج نے گزشتہ نومبر کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک برس کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا اور سابق فوجی جنرل کو صدر کے لیے نامزد کر دیا۔

میانمار سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پیر کے دن ینگون میں جمع ہونے والے مظاہرین نے فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ جمہوری رہنما آنگ سان سوچی کو فوری طور پر رہا کر دے۔ نوبل امن یافتہ سوچی یکم فروری سے فوجی کی حراست میں ہیں۔

میانمار کی فوجی جنتا کی طرف سے جاری کیے گئے ایک تازہ بیان میں دہرایا گیا ہے کہ فوجی کی طرف سے ملک کا کنٹرول سنبھالنا ایک آئینی عمل ہے۔

ملکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے اس بیان میں مزید کہا کہ ‌’غیرقانونی مظاہروں۔ اشتعال انگیزی اور تشدد‘ کے باوجود متعلقہ حکام طاقت کے بے جا استعمال سے احتراز کر رہے ہیں۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ سکیورٹی اہلکار ملکی قوانین اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں۔

میانمار میں پانچ دہائیوں تک فوجی جنتا کی آمریت کے بعد سن دو ہزار پندرہ میں جمہوری نظام فعال ہوا تھا، جس کے نتیجے میں نومبر سن دو ہزار پندرہ کو ہوئے الیکشن میں جیت کے بعد آنگ سان سوچی کی سیاسی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا۔

سوچی کی پارٹی نے نومبر سن دو ہزار بیس کے الیکشن میں بھی قطعی اکثریت حاصل کی تھی جبکہ اس انتخابی عمل میں فوج نواز اتحاد ناکامی سے دوچار ہو گیا تھا۔

فوج نے اس الیکشن میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا، جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد فوج نے یکم فروری کو سوچی کا اقتدار ختم کرتے ہوئے ہنگامی حالت کا نافذ کر دیا تھا۔