حکومت ڈرون حملوں پر دوغلی پالیسی بند کرے: عمران خان

 Imran Khan

Imran Khan

اسلام آباد (جیوڈیسک) اسلام آباد کے ڈی چوک پر ہونے والے دھرنے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزراء، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی، شیخ رشید احمد اور جمشید دستی نے بھی شرکت کی۔

وفد نے قومی اسمبلی کے سپیکر اور اپوزیشن لیڈر کو ڈرون حملوں کے خلاف یادداشت بھی پیش کی تاہم امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کا فیصلہ موخر کر دیا گیا۔ دھرنے کے شرکاء ڈرون حملوں کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کرتے رہے۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اپنے موقف پر قائم ہے۔ خیبر پختونخوا کے راستے نیٹو کو سپلائی نہیں جانے دیں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں بھی ڈرون حملوں کے خلاف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت انہیں کچھ کہتی ہے اور امریکیوں کو کچھ۔ (ن) لیگ دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ حکمران طبقے کا سارا پیسہ ملک سے باہر پڑا ہے جن لیڈروں کے اثاثے باہر ہوں وہ ملک کی فکر کیسے کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کو گرانے کی کوشش کی تو وہ خود جائے گی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا کے دوست نہیں بلکہ اس کی غلامی کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹیرینز بھی عوام سے سچ بولیں۔ ڈرون حملوں کے خلاف تحریک انصاف کے دھرنے میں خطاب کرتے ہوئے دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ڈرون حملہ خیبر پختونخواہ پر ہو سکتا ہے تو لاہور، اسلام آباد بھی محفوظ نہیں۔ قوم اب بھی نہ نکلی تو 19 کروڑ لوگوں پر ڈرون حملہ ہو گا۔ کسی کو ملک بیچنے نہیں دیں گے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت یا کرسی چھوڑے گی یا ڈرون حملے رکیں گے۔

خیبر پختونخوا محفوظ نہیں تو لاہور اور اسلام آباد بھی نہیں ہے۔ سینئر وزیر کے پی کے سراج الحق کا کہنا تھا کہ ایسی وزارت نہیں چاہیے جس میں اپنے بچوں کے جنازے پڑھانے پڑھیں۔ نواز شریف فیصلہ کر لیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہیں یا عوام کے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نیٹو سپلائی بند کرنے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ دہشت گردی جو بھی کرے گا اس کے خلاف آواز بلند کریں گے۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کے لیے ڈرون سے بچاؤکی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 19 کروڑ لوگوں پر ڈرون مارا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسحاق ڈار ڈالر 98 روپے پر لے آئیں تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود سارا اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوگا۔