مہنگائی کا نیا طوفان

Ramadan

Ramadan

بزرگ فرماتے ہیں کہ تہوار ہر قوم کی سماجی زندگی کا ایک اہم عنصر ہوتے ہیں۔ لیکن ان تہواروں کا پس منظر بالعموم اس دنیا سے وابستہ ہوتا ہے۔ تہوار کے دن دنیوی کامیابیوں یانعمتوں کے حصول کے مواقع ہوتے ہیں۔ لیکن اسلام کے دونوں تہوار خدا کے ساتھ بندے کے تعلق کی نسبت سے منائے جاتے ہیں۔ عیدالاضحی در حقیقت، خدا کی خاطر قربانی کے جذبے کا مظہر ہے او رعید الفطر رمضان المبارک یعنی اللہ کے لیے گزارے گئے مہینے کی عید ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ مسلمان اپنا یہ تہوار، اپنے اسلام اور ایمان کے شایان شان منائیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہل ایمان خوشی کے مواقع پر خوش نہیں ہوتے۔

وہ رونق اور ہنسی کھیل سے گریزاں رہتے ہیں۔ اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انھیں خوش نہیں ہونا چاہیے یا انھیں ہنسی کھیل سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ انھیں ہرحال میں خدا کی قائم کردہ حدود کا پابند رہنا چاہیے۔ کوئی خوشی انھیں خدا کے احکام سے غافل نہ کر دے اور کسی ہنسی کھیل اور رونق میلے میں وہ ایسے مشغول نہ ہوں کہ نماز جیسی عبادت بھی نظر انداز ہو جائے۔ کہا جاتاہے کہ عید کے موقع پر ہر شہرگائوں میں مختلف تنظیموں اور این جی اوز کی طرف سے عرباء اور ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں اور ڈیوٹی پر مامور عملہ کو تحائف تقسیم کیے جاتے ہیں۔ عید کے موقع پر تحائف دینے کی روایت سے مریضوں کو بہت حوصلہ ملتا ہے۔

اور ان کے جلد صحت یاب ہونے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح حکمرانوں کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ مسلمان اپنا یہ تہوار، اپنے اسلام اور ایمان کے شایان شان منائیں۔ بتایا جارہاہے کہ ہماری پاکستانی حکومت نے عید کے موقع پر عوام کوبہت سارے تحائف ایک ہی وقت میں دیدیئے ہیں۔ تحائف کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ اوگرا کی بھیجی جانیو الی سمری پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیدی ہے۔ جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 73 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اب پٹرول کی نئی قیمت 104 روپے 50 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔

Petrol

Petrol

پٹرول کی پرانی قیمت 101 روپے 75 پیسے تھی۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 99 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اب مٹی کے تیل کی نئی قیمت 101 روپے 28 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ قبل ازیں مٹی کے تیل کی قیت 96.29 روپے تھی۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 95 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمت 96 روپے 12 پیسے فی لٹر ہوگی۔ پرانی قیمت 92 روپے 17 پیسے تھی۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمت 109 روپے 76 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ پرانی قیمت 106 روپے 76 پیسے تھی۔ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گیا ہے اور اسکا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کہتے ہیں کہ بجلی کے ٹیرف میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے اسلئے صنعتی صارفین کے لئے یکم اگست اور گھریلو صارفین کیلئے یکم اکتوبر سے بجلی مہنگی کی جا رہی ہے۔ دنیا میں پاکستان وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ تیل سے بجلی پیدا کی جارہی ہے جو سب سے مہنگی پڑتی ہے۔ بدقسمتی سے گذشتہ حکومت نے ایک سال کے دوران بجلی کے ٹیرف پر کسی قسم کی نظرثانی نہیں کی جس کے باعث حکومت کو سر کلر ڈیٹ کی مد میں اربوں روپے کی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔

بجلی کی پیداواری لاگت اور فروخت کے درمیان فرق کی وجہ سے پیدا ہونیوالے سرکلر ڈیٹ کی رقم سبسڈی سے ادا کی جائے یا ٹیرف میں اضافے سے دونوں صورتوں میں بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے، اسلئے سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کے لئے ٹیرف میں اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہی واحد راستہ ہے۔ حکومت نے بجلی کے ٹیرف میں اضافے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ بجلی کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ نرخوں پر نظرثانی نہیں کرتے تو سرکلر ڈیٹ کا مسئلہ پھر سر اٹھا لے گا۔ اگلے سال سبسڈی میں کمی کریں گے۔ بجلی کا نیا قانون بنانے کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت بجلی چوری ناقابل ضمانت جرم تصور ہو گا۔

Nandi Pur

Nandi Pur

ٹرانسپئرنسی انٹرنیشنل کو نندی پور پاور پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلات دیدی ہیں کیونکہ اس منصوبے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت 4 ستمبر سے قبل بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرے تاکہ 4 ستمبر کو پاکستان کیلئے قرضے کی منظوری کا معاملہ آئی ایم ایف کے بورڈ کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ انسٹیٹیوٹ اسلامک بنکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کہتے ہیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس عائد کرتی تو بجلی اور پٹرولیم کے نرخ بڑھانے کی ضرورت نہ پڑتی۔

مہنگائی کا نیا طوفان آئیگا اور صنعتوں کی پیداوار بڑھے گی۔ مجموعی طور پر کم آمدنی والے کروڑوں افراد کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی۔ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا بحران مزید سنگین ہو گا۔ حکمرانوں کی جانب سے عوام کوملنے والی ہرشے تحفہ ہی ہو تی ہے ۔بہت سارے لوگ اس پریشانی کے علم میں ہیں کے ابھی تو مسلم لیگ ن کے حکومت قائم ہوئے چندماہ ہوئے ہیں توعوام کیلئے تحالف کی بھر ہو چکی ہے ۔ابھی تو کئی سال باقی ہیں۔ حالانکہ یہی لوگ انتخابات سے پہلے مسلم لیگ ن کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے تھے۔

تاکہ عوام ان تحالف سے بچ سکے۔ کیونکہ مسلم لیگ ن نے قوم سے وعدہ کرکے ووٹ لیا تھا۔ کہ ان تمام تحائف سے نجات دلائل گئے۔ فیصلے کرتے وقت حکمرانوں کو اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ پاکستان میں ہرسال 20 لاکھوں افراد بیروزگاری کا شکار ہور ہیں۔ بیروزگاری اور مہنگائی کے نیا طوفان کسی طرف رخ کرلیں۔اس بات کی تاریخ گواہ ہے۔

Ghulam Murtaza Bajwa

Ghulam Murtaza Bajwa

تحریر : غلام مرتضیٰ باجوہ