ایران جوہری مذاکرات فوری ضرورت ہیں، امریکا اور جرمنی

Iran

Iran

امریکا (اصل میڈیا ڈیسک) امریکا اور جرمنی کے مطابق جوہری امور پر بات چیت ایک فوری ضرورت ہے اور اب حل تلاش کرنے کا وقت تیزی سے نکلتا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک جوہری معاہدہ بحال کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایران یورینیم کی افزودگی بڑھا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے 20 جنوری جمعرات کے روز برلن میں ایک ملاقات کے دوران کہا کہ سن 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مغربی ممالک اور تہران کے درمیان کافی دنوں سے ویانا میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاہم ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

بلنکن اور بیئر بوک کا کیا کہنا ہے؟
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنی جرمن ہم منصب بیئربوک کے ساتھ ایک مشترکہ کانفرنس کے دوران کہا، ”حقیقت میں یہ ایک فوری ضرورت ہے اور واقعی اب یہ ہفتوں کا معاملہ ہے، جہاں ہم یہ طے کر سکیں گے کہ آیا ہم معاہدے کی باہمی تعمیل پر واپس جا سکتے ہیں یا نہیں۔”

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ویانا میں حالیہ مذاکرات کے دوران بہت ”معمولی پیش رفت” ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ معاہدے کے ساتھ ”باہمی تعمیل” کی طرف واپسی اب بھی ممکن ہے۔

انٹونی بلنکن کے یہ بیانات امریکی صدر جو بائیڈن کے ان تبصروں کی ہی باز گشت ہیں، جس میں انہوں نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ابھی سن 2015 کے معاہدے کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کو ترک کرنے کا وقت نہیں آیا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں وقت سب سے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”حل تلاش کرنے کی کھڑکی بند ہو رہی ہے۔ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں ہیں۔ ہمیں فوری، بہت ہی جلد پیش رفت کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، ہم کسی مشترکہ معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔”

مذاکرات کی رفتار پر فرانس بھی شاکی
اس موقع پر فرانسیسی وزیر خارجہ بھی برلن میں بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے نقطہ نظر میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک مذاکرات میں پیش رفت ”جزوی، بہت تھوڑی اور سست رو” رہی ہے اور اس کی ”رفتار کو تیز تر کرنا” ضروری ہے۔

جوہری معاہدے سے متعلق یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران یورینیم کی افزودگی کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ مغربی ممالک میں اس کی وجہ سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین اور یورپی یونین اس وقت اس معاہدے پر ویانا میں مذاکرات کے آٹھویں دور میں ہیں۔ تقریباً دو ماہ قبل یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تھے، تاہم ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا ہے۔

امریکا بھی ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2018 میں مشترکہ جامع منصوبے کے نام سے معروف ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکا کو یکطرفہ طور پر نکال لیا تھا، جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

صدر جو بائیڈن نے 2021 کے آغاز میں عہدہ سنبھالنے کے بعد اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے کی بات کہی تاہم وہ بھی اس کے لیے وہ بیشتر پابندیاں ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں جو ایرانی معیشت کو کمزور کر رہی ہیں۔