حکومت اور عوام کی جان ومال کے تحفظ

Terrorism

Terrorism

ہر حکومت عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرتی رہتی ہے لیکن عوام کی شمولیت کے بغیر ان منصوبوں کی کامیابی ممکن ہی نہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بھی حکومت کیلئے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے آج تھانے خوف کی علامت ہیں اسی لئے عام آدمی پولیس اسٹیشن جانے سے کنی کتراتا ہے اور ایک عام تاثر یہ ہے کہ لوگوں کی شنوائی بھی نہیں ہوتی۔ اس لئے عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت کو فی الفور 2 کام ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہونگے ایک تو محلہ وار مصالحتی کمیٹیوں کی تشکیل اور انہیں موثٔر بنانا دوسرا عوام کو دہشت گردی، منشیات، بیروزگاری اور سٹریٹ کرائم سے بچانے کے لئے عوامی سطح پر رضا کار طرز کی نئی سیکورٹی فورس کا قیام ضروری ہے جس کیلئے ہر یونین کونسل میں کم از کم 50 نیک نام، پڑھے لکھے بیروز گار نوجوانوں کا انتخاب کیا جائے

پاکستان کے موجودہ مسائل دہشت گردی، منشیات، بیروزگاری اور سٹریٹ کرائم کے خاتمہ کیلئے قابل عمل پلان اس لئے بھی ترسیب دینا ضروری ہوگیا ہے کہ آج ہمارے پیارے وطن کو بدترین دہشت گردی کا سامنا ہے ،بیروزگاری کے باعث نوجوان انتہا پسندوں کے آلۂ کار بن جاتے ہیں، سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوتا ہی چلا جارہا ہے، کسی کی جان ہمال محفوظ نہیں اس ماحول میں سرکاری افسروں اور معروف شخصیات کی سکیورٹی کے لئے حکومت نے بے پناہ اقدامات کئے ہیں۔

ان کی حفاظت کے لئے بلٹ پروف جیکٹ، خصوصی سکوارڈ، اور دیگر حفاظتی انتظامات کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن عوام جو حکومت کو اربوں کھربوں روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں انکی حفاظت کے لئے کئے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں اس لئے عوام کو دہشت گردی، منشیات کی لعنت، بیروزگاری اغواء برائے تاوان اور سٹریٹ کرائم سے بچانے کے لئے حکومت ہر یونین کونسل کی سطح پر نئی سیکورٹی فورس قائم کرے۔

Watchmen

Watchmen

ہو سکتا ہے ارباب اختیار کے پاس یہ جواز ہو کہ اس منصوبے کیلئے حکومت کے پاس وسائل موجود نہیں ہیں اس لئے نئی سیکورٹی فورس قائم نہیں کی جا سکتی یہ جواز اپنی جگہ بڑی اہمیت کا حامل ہے لیکن جناب اس عظیم الشان منصوبے کیلئے فنڈز خود عوام مہیا کرسکتے ہیں جس کے لئے ہر گھرانے پر 200-100 فنڈ لگایا جا سکتا ہے جو یوٹیلٹی بلز میں شامل کیا جائے تا کہ کولیکشن میں آسانی ہو عوام الناس اور تاجر تو پہلے سے ہی اپنی حفاظت کے لئے چوکیداروں اور سیکورٹی اہلکاروں کو ماہانہ دے رہے ہیں اور زیادہ تر چوکیداروں اور سیکورٹی اہلکاروں کا باقاعدہ ریکارڈ بھی نہیں ہے جس سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

اگر عوام کو یقینی تحفظ کا یقین ہو جائے تو وہ اس سے زیادہ تعاون بھی کر سکتے ہیں۔ پلان یہ ہے کہ سیکورٹی فورس کے ارکان ہر محلے میں اپنی ڈیوٹیاں انجام دیں گے ان کو جدید وائرلیس سسٹم سے آراستہ کیا جائے تا کہ رابطے میں آسانی ہوسکے۔ علاقہ میں کسی واردات کی صروت میں سیکورٹی فورس کے ارکان فی الفور ایکشن لیں گیں۔

چوروں ڈاکوئوں، دہشتگردوں، منشیات فروشوں، ناجائز اسلحہ رکھنے والوں اور سٹریٹ کرائم کا سدباب ہو سکے گا۔ سیکورٹی فورس کے ارکان کا قریبی تھانے اور کونسلروں سے مکمل رابطہ ہو گا وہ روزانہ کارکردگی کی رپورٹ قریبی تھانے اور یونین کونسل جمع کروانے کے پابند ہوں گے اس کا باقاعدہ اندراج اور ریکارڈ کمپیوٹر میں کیا جائے گا۔ اسی طرح 1122 کی طرز پر ہر یونین کونسل میں 1144 کا مرکز بنایا جائے۔

ہر UC میں کم از کم 2 گاڑیاں ہونی چاہییں اس مرکز کے عملہ میں تربیت یافتہ بم ڈسپوزل سکوارڈ،پولیس کمانڈو،شہری دفاع کے رضاکار اور سماجی کا رکن شامل کئے جائیں اس سے بہترین کوارڈینیشن کے ساتھ کام ہو سکے گا، لوگوں کے مسائل اچھے انداز سے حل ہوں گے اور پولیس اہم معاملات کو مناسب انداز سے ہینڈل کر سکے گی ۔ہریونین کونسل میں 1144 کے ارکان کسی بھی ہنگامی صورت حال، ناخوشگوار واقعہ،ڈاکہ منشیات فروشی،بنک ڈکیٹی،دہشت گردی، محلہ میں لڑائی جھگڑے اور اس نوعیت کے دیگر معاملات میں فوری ایکشن لے کر عوام کے جان ومال اور عزت آبرو کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔

خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے گذارش ہے کہ اس منصوبے مزید بہتر بنانے کیلئے ماہرین کی خدمات سے استفادہ بھی کیا جا سکتا ہے جس کی روشنی میں ایک بہتر ،جامع اور مربوط حکمت ِ عملی تیار کی جا سکتی ہے اس منصوبے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے بیروز گاری ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی صرف لاہور میں ہزاروں پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس منصوبے پر حکومت کو کچھ بھی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں صرف اس کی سرپرستی میں، ڈاکہ منشیات فروشی، بنک ڈکیٹی، دہشت گردی، اور اس نوعیت کے جرائم ختم ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ حکومت عوام کے ساتھ مل کر پاکستان سے جرائم ختم کر سکتی ہے منشیات فروشی، بنک ڈکیٹی، دہشت گردی، اور اس نوعیت کے جرائم ختم ہونے میں مدد مل سکتی ہے ابتدانی معاملات کیلئے مصالحتی کمیٹیوں کو کچھ اختیارات دئیے جائیں تاکہ چھوٹے موٹے تنازعات محلہ کی سطح پر ہی حل ہو جائیں اس لئے نہ صرف فوری اور سستے انصاف کی طرف پیش رفت ہو سکے گی بلکہ پولیس پر بھی غیر ضروری دبائو اور مسائل میں کمی آئے گی سماجی معالات، چھوٹے موٹے تنازعات اورخانگی مسائل مصالحتی کمیٹیاں حل کرنے میں ناکام ہو جائیں تو معاملہ پولیس تک جانے کی نوبت جانی چاہیے۔

Ilyas Mohammad Hussain

Ilyas Mohammad Hussain

تحریر: الیاس محمد حسین