مشبر حسین سید کی جدید اردو غزل

Mubashir Hussain

Mubashir Hussain

تحریر : شعبان جھلن شعبان

پچھلے کئی دنوں سے اچھا لکھنے کی جستجو میں تھا مگر لکھا نہیں جا رہا تھا۔ یہ کہنا آسانی پیدا کرے گا کہ کوئی اچھوتا عنوان نہیں مل رہا تھا۔’’وجود کیا حباب کا،، ڈاکٹر مشبر حسین سید کی سوکھڑی ملی جس نے میرا دھیان کھینچ لیا۔مشبر حسین سید نے اپنی زندگی اردو شاعری پڑھانے میں گزار دی اردو کے ریٹائرڈ پروفیسر اور ضلع اٹک میں آستانہ عالیہ ہے ۔ڈاکٹر صاحب نیک طبیعت صوفی منش اہلِ بیت کی الفت میں اپنا تخلص ’’حسینؔ ،، لکھتے ہیں۔انیس صد چوہتر سے ڈاکٹر صاحب غزل کہہ رہے ہیں۔اب تک ان کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں پہلا نعتیہ مجموعہ ’’حرفِ بقأ‘‘ کے عنوان سے بیس صد چودہ میں شائع ہوا پھر غزلوں کا مجموعہ ہائے کلام ’’وسعتِ خیال،، بیس صد پندرہ میں شائع ہوا اسکے بعد تیسرا غزلوں کا مجموعہ ہائے کلام ’’وجود کیا حَباب کا،، بیس صد سترہ میں شائع ہوا.مجھے سوکھڑی ملے میں نے گہرائی اور دل سے پڑھے خیر آج میرے قلم کی زد میں ہیں۔ دونوں مجموعے جدید غزل کے شاہکار ہیں۔ تقریباً گزشتہ نصف صدی سے غزل کہنے والے قادر الکلام شاعر کے قلم سے نکلی غزل اپنے اندر اپنے وقت اور معیار کا تعین رکھتی ہے۔

مشبر حسین سید کا جدید غزل میں بھی نویکلہ اور منفرد رنگ ہے اس رنگ میں عظمتِ خیال شدتِ جذبات صنائع بدائع لفظوں کا چناو اور بندش کا جس طرح سے خیال رکھا گیا وہی ان کتب کو اردو ادب میں جدید غزل کا شاہکار بناتا ہے۔ ان مجموعوں میں محبوب کے بچھڑنے پر نوحہ گری معاشرے میں ہونے والے ظلم ستم غربت بیروزگاری معاشی معاشرتی الغرض زندگی کے ہر موضوع پر وسعتِ خیال کا مظبوط حوالہ موجود ہے ۔ڈاکٹر صاحب کی غزل میں جدیدیت اور جدت کا ایک حوالہ خیال کی وسعت کے ساتھ حقیقت کو مجاز کا بھیس پہنا کر بیان کرنا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے پہلے غزلیا مجموعے ’’وسعتِ خیال،، میں تہتر غزلیں حمد و نعت ہے ایک سو اٹھائیس صفحات ہیں۔ ہر دوسری غزل پہلی غزل سے منفرد اور نئے اسلوب و طرز میں ہے ۔یوں کہنا مشکل نہیں کہ ہر دوسری غزل پہلی غزل سے خیال معنی و مفہوم میں جدت کا پیغام رکھتی ہے۔۔ مشبر حسین سید عہدِ حاضر کے چند گنے چُنے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان کے شعر کا اسلوب اور انداز اپنے اندر بے پناہ انفرادیت سموئے ہوئے ادب کے کینوس پر نمودار ہوتا ہے۔ وسعتِ خیال میں ڈاکٹر صاحب کہیں آنکھوں میں صدیوں کی لمبی بیچارگی بیان کرتے ہیں تو کبھی آنکھوں میں اشکوں کی محفل لگا لیتے ہیں تو کبھی لبوں کو سی کر آنکھوں میں داستان چھیڑ لیتے ہیں اور یہی مشبر حسن سید کا فن ہے۔

کتنی بے چارگی ہے آنکھوں میں
ایک لمبی صدی ہے آنکھوں میں
اشک آنکھوں میں آ گئے پھر سے
پھر سے محفل جمی ہے آنکھوں میں
جو لبوں پر نہ آ سکی ہے حسینؔ
داستان وہ چھڑی ہے آنکھوں میں
ڈاکٹر صاحب درویش صفت ہونے کے ساتھ ساتھ قلم سے بھی نری درویشی لکھتے ہیں اور بہت بڑی بات سادگی سے بیان کر دیتے ہیں جسے قاری پڑھ کر سوچتا رہ جاتا ہے یہ عالم فاضل اور کمال درجہ کے سخنور کی سادگی ہے۔
بستیوں کی بستیاں مٹ جائیں گو
زندگی کو فرق کچھ پڑتا نہیں
بولتا ہے کوئی اندر سے مرے
میں اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں

ناصر کاظمی جس طرح جدید غزل میں قافیہ شائیگاں کا استعمال منفرد انداز سے کرتے ہیں وسعتِ خیال میں وہی انداز مشبر حسین سید کا ہے جس طرح ناصر کاظمی اپنے دور میں منفرد اور حیران کن شاعر ہے اسی طرح مشبر حسین بھی۔ مجموعہ ہائے کلام وسعتِ خیال کی آخری غزل تک ناصر کا ذائقہ اور قافیہ شائیگاں اہلِ ذوق کے لئے سروں میں ساز کی طرح نظر آئے گا۔

جب غزل کہہ لی تو پھر افسردگی کچھ کم ہوئی
سارے دن میں جو سمیٹی بے بسی کچھ کم ہوئی
دور تھے تجھ سے تو پھر ہر ہر نفس دوزخ ملا
تیرے در کے ہو گئے تو بیکلی کچھ کم ہوئی

’’وجود کیا حباب کا،، مشبر حسین سید کا دوسرا خالص غزلوں کا مجموعہ ہے جس میں چھپن غزلیں اور ایک سو سولہ صفحات ہیں۔ قادر الکلام شاعر جب شعر لکھنے لگتے ہیں تو لفظ ہاتھ جوڑ کر منتیں کرتے ہیں کہ انکو اپنے قلم کی سیاسی کی زینت بنائیں۔ڈاکٹر صاحب مسکراتے ہیں پھر دل سے کچھ کو یہ شرف بخشتے ہیں اور جن کو بخشتے ہیں وہ امر ہو جاتے ہیں اور ادب کی جان بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نفیس اور صوفی طبیعت کے مالک ہیں۔ان کا کلام پڑھتے مجھ پر شعر الہام ہونے لگتے ہیں اور میری غزل بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا شعر میرے لئے عروض کا ایک سبق ہے۔ مشبر حسین سید کا مشاہدہ وسیع ہے اور اردگرد کے ماحول میں گہری نظر رکھتے ہیں۔ اپنے تجربات اور مشاہدات کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔

باہر سے تھے ثابت سالم
اندر ٹوٹے چٹخے چہرے

یہ فطرتی عمل ہے کہ جب بھی انسان اپنی قریب ترین چیز کھوتا ہے تو مالک سے اس کا گلہ شکوہ کرتا ہے اسی طرح مشبر حسین سید جب اپنے پیاروں کو خود سے جدا کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی تلے دفن کرتے ہیں تو اللہ تعالی سے شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔۔

تُو نے بُلانا تھا گر واپس
دُنیا میں کیوں بھیجے چہرے

مشبر حسین سید تصوف میں کمال درجہ کے شعر لکھ جاتے ہیں انکی غزل میں صوفیانہ رنگ ہے اور اللہ تعالیٰ سے بے تکلفی سے بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں بے تکلفی درحقیقت دوستی ہی ہوتی ہے اسی دوستی میں کہتے ہیں مولا بخش دے ہمیں کہیں تیری جنت نہ ویران ہو جائے۔

بخش دے ہم سبھی کو تو مولیٰ
تیری جنت میں ہو نہ ویرانی
کبھی اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں۔۔
جب سے آئے ہیں زمیں پر خلد سے
اَے خدا! کیا ہم پرائے ہو گئے

اس دورِ پُر فتن میں روزنامہ سینکڑوں ناانصافیاں تو کورٹ کچری میں ہو رہی ہیں اوپر انصاف کا جھنڈا ہوتا ہے اور نیچے انصاف کا پبیوپار ہوتا ہے۔موجدہ دور کے حالات یہ ہیں کہ بھائی بھائی سے خفا سے بیٹا والدین سے خفا ہے کوئی کسی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا جس طرح ہمارے اجداد میں ایک ہی چولہے پر سب مل کر کھانا کھاتے تھے اب ہر کوئی اپنا چولھا جلانا چاہتا ہے۔ مشبر حسین سید زمانے کی نا انصافیاں دیکھتے ہیں تو ان کا کلیجہ پھٹ جاتا ہے اور پھٹے کلیجے سے یوں کہتے ہیں۔

ماں نے بیٹوں کو دعا رو رو کے دی
جب مکاں کے چار ٹکڑے ہو گئے

معاشرے کی بدعنوانیاں اور جھوٹ کا تخت دیکھتے ہیں تو خود سے کہتے ہیں۔

جانے لگے ہو شاہ کے دربار میں جو تم
سچ کا بخار کیا وہ تمھارا اُتر گیا

سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے اورجھوٹ کی مٹھاس کے اس دور میں کڑواہٹ کسی کو کیونکر پسند ہو،ایسے میں مشبر حسین سید سچ سچ کا نعرہ لگاتے ہیں اور جب سچ بولنے کی پاداش میں سزا پاتے ہیں تو پھریہ ترانہ کہتے ہیں۔

اپنے لبوں پر سچ کی آہٹ جب سے سنی ہے
میں تو مصائب اور آفات لئے پھرتا ہوں

ڈاکٹر مشبر حسین سید اس غزل کے مقطع سے اپنی کتاب کا نام اخز کرتے ہیں۔

ترے کرم پہ رکھ دیا
معاملہ حساب کا
یہیں پہ چکھ رہا ہوں کیا؟
میں ذائقہ عذاب کا
غرور و ناز کیا حسینؔ
وجود کیا حباب کا

Shubaan

Shubaan

تحریر : شعبان جھلن شعبان