مسلمان ممالک اپنی حفاظت کے لیے متحد ہو جائیں، مہاتیر محمد

Mahathir Mohammad

Mahathir Mohammad

کوالا لمپور (اصل میڈیا ڈیسک) ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ تمام مسلمان ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے متحد ہو جائیں۔

ایرانی عسکری کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی موت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے قتل کو جارحیت قرار دیا اور کہا کہ اس طرح شدت پسندی کو مزید فروغ ملے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے قاسم سلیمانی کے قتل کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کی طرح کا واقعہ قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا۔

94 سالہ مہاتیر محمد نے کہا کہ ’ اب صحیح وقت آگیا ہے کہ اسلامی ممالک متحد ہوجائیں، ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں، اگر کوئی کچھ کہتا ہے یا کسی کا مذاق اڑاتا ہے اور یہ بات کسی کو پسند نہیں آتی تو اگلا ڈرون بھیج دیتا ہےاور شاید وہ مجھے بھی نشانہ بنادیں‘۔

مہاتیر محمد نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سچ بولتے ہیں، اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو آپ کا حق ہے کہ اس کے خلاف آواز بلند کریں۔

واضح رہے کہ ملائیشیا میں ہزاروں ایرانی باشندے رہتے ہیں جب کہ ملائیشیا اور ایران کے درمیان مضبوط تعلقات استوار ہیں۔ گزشتہ ماہ مہاتیر محمد نے ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کی دعوت پر ایک اہم کانفرنس میں شرکت کی تھی جس میں باہمی تعاون اور تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ مہاتیر محمد اس سے قبل بھی کشمیریوں پر جاری ظلم و تشدد کے خلاف بھی بیان دے چکے ہیں۔