مسلم لیگ ن کی حکومت کو ایک ماہ کے اندر ختم کر دیا جائے گا: طاہر القادری

Tahir-ul-Qadri

Tahir-ul-Qadri

لاہور (جیوڈیسک) عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو ایک ماہ کے اندر ختم کر دیئے جانے کا امکان ہے۔ گذشتہ روز پارٹی کے سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں جلد اس حکومت کے خاتمے کی تاریخ دونگا۔

آرٹیکل 245 انقلاب کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ ہم انقلاب لانے کے فوراً بعد سانحہ ماڈل ٹائون کا مقدمہ درج کرائینگے جبکہ سانحہ میں ملوث ہونے پر نواز شریف اور شہباز شریف کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ حکمرانوں سے قانونی طور پر بدلہ لئے بغیر ہماری تحریک ختم نہیں ہو گی۔ دریں اثناء آئی این پی کے مطابق ایک انٹرویو میں ڈاکٹر طاہر القادری نے مڈٹرم انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مڈٹرم الیکشن حکومت کو سیاسی شہید بنانے کے مترادف ہونگے۔

عمران خان جس سسٹم کا حصہ ہیں میں اس کے خلاف ہوں‘ مسائل کا حل صرف انقلاب ہے‘ میں عمران خان کے لانگ مارچ کو بھی ناکام نہیں دیکھنا چاہتا‘ انقلاب سے ہم نظام میں تبدیلی لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرا انقلاب الیکشن کے بغیر تبدیلی لانے والی قوتوں کا حصہ نہیں بنے گا میں حقیقی جمہوریت کی بحالی چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستانی ہوں، پیدا یہیں ہوا اور یہیں دفن ہوں گا‘ میرا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے۔

انہوں نے کہا میں صرف اس لئے تڑپتا ہوں کہ اگر یہی حالات رہے تو 5 سال بعد (خدانخواستہ) پاکستان کہیں دنیا کے نقشے سے نہ مٹ جائے‘ میں انتخابی نظام پر پختہ یقین رکھتا ہوں، میرا موقف ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے نہ جمہوری نظام انتخاب، اسے انتخابی آمریت کہا جاتا ہے میں اسے جمہوری نظام نہیں سمجھتا‘ یہ نظام مسترد کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا میں نے زندگی میں کبھی نہیں کہا کہ میری عمر 63 برس ہو گی۔

قبل ازیں ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد کو فوج کے حوالے کرنے کے حکومتی فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ضرب عضب آپریشن کے باعث آرٹیکل 245 کے نفاذ کی ضرورت KPK میں تھی وہاں پر عوام کی جان و مال و املاک کی حفاظت کی ضرورت ہے، کراچی میں ایک عرصہ سے روزانہ درجنوں نعشیں گر رہی ہیں اور ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، وہاں ضرورت تھی وہاں اس آرٹیکل کا نفاذ کیوں نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد میں اس آرٹیکل کا نفاذ حکومتی مذموم سازش کا حصہ ہے اور یہ سیاسی مقاصد کے لیے ہے۔ حکومت فوج کے تقدس کو مجروح کر رہی ہے۔ انہوں نے پولیس کو مخاطب کر کے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں پولیس افسروں اور پولیس کے لوگوں کو حکمرانوں نے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا۔ پولیس اپنے انجام بد کو دیکھ لے جو اس واقعے میں شامل ہیں انہیں کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

پولیس ریاست کی ملازم ہے، ان رائیونڈ والے دہشت گرد حکمرانوں کی نہیں۔ انہوں نے جے آئی ٹی کی انویسٹی گیشن رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشنل ٹربیونل کی طرح جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو بھی وزیراعلیٰ نے بنایا جو کہ خود قاتل اعلی ہیں۔ رپورٹ کو مسترد کرنے کے اسباب بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اس میں قاتل پولیس کے 8افسر جے آئی ٹی کے ممبر ہیں اور اس کا سربراہ ایڈیشنل ڈی آئی جی سپیشل برانچ ہے۔

صرف دو ممبر غیر جانبدار ہیں جو آئی ایس آئی اور ایم آئی سے ہیں، اکثریت کے اعتبار سے ان کے فیصلے کی کیا حیثیت ہو گی؟ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی منصوبہ بندی میں نواز شریف کا کردار کلیدی ہے۔ انقلاب کے بعد ان کے خلاف ایف آئی درج کر کے اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈال کرانہیں گرفتار کر کے قانون کے مطابق عام شہریوں کی طرح سلوک کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کے بیان حلفی پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ انکے بیان سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہاں عام شہریوں کو قتل کیا جا رہا تھا اور وہ سرکاری معمولات نمٹانے میں مصروف تھے۔