جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کریں گئے: چین

China

China

سنگاپور (جیوڈیسک) چین نے ایک بار پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا۔ سنگاپور فوجی حلقوں میں حال ہی میں جاری دفاعی وائٹ پیپر میں استعمال میں پہل نہ کرنے کے وعدہ کے حذف ہونے کے بعد چین میں قیاس آرائی پھیل گئی تھی کہ چین نے شاید اپنی پالیسی ترک کر دی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل کوی جیانگ وو نے سنگاپور میں سیکورٹی فورم میں بتایا کہ میں بیان حلفی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ چین کی حکومت جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کے اپنے وعدے کو کبھی بھی ترک نہیں کرے گا۔ ہم نے نصف صدی کے لئے اپنی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا ہے اور اس حقیقت کو ثابت کر دیا کہ یہ نہ صرف چینی عوام کے مفاد میں ہے بلکہ پوری دنیا کے عوام کے مفاد میں بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائٹ پیپر اپریل میں جاری کیا گیا تھا جس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہئے کہ کیوں اس میں وعدے کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ واض رہے کہ 1964 میں اپنے پہلے جوہری ہتھیار کے تجربے کے بعد چین نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں کبھی بھی پہل نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

چین نے اپنے جوہری اسلحہ کے سائز کی وضاحت نہیں کی لیکن سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی طاقت کے پاس بیلسٹک میزائلوں کی جانب سے اہم ڈیلوری کے لئے تقریبا 200 آپریشنل جوہری ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔