طاقت کا سرچشمہ

Parliament

Parliament

تحریر: طارق حسین بٹ

وہ لوگ بڑی ہی شدید غلطی پر ہیں جو یہ سمجھنے ہیں کہ کسی بھی حکومت کی طاقت پارلیمنٹ میں پنہاں ہوتی ہے۔پارلیمنٹ کی مدد سے حکومت توبنائی جا سکتیِ ہے، قانون سازی بھی کی جا سکتی ہے اور مخالفین کا جینا ب بھی دوبھر کیا جا سکتا ہے لیکن حکومت کی مقبولیت اور اس کی بقا پارلیمنٹ میں عددی اکثریت سے منسلک نہیں ہوتی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر ہر اکثریتی جماعت ہمیشہ انتخابات میں فتح یاب ہوتی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کا جنون ہر جماعت کو ہوتا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں دھاندلی اور انتخابی بے قاعدگیوں جیسے غیر آئینی افعال سرزد ہوتے ہیں جو ان کی جیت کا سارا مزہ کرکرا ہ کر دیتے ہیں۔

لیکن اس طرح کی حرکات سے حکومتیں آگے نہیں بڑ ھتیں بلکہ حکومتیں ہمیشہ عوام کی خدمت، ان کی حمائت اور ان کی خوشخالی سے تقویت حاصل کرتی ہیں۔مصر کے صدر حسنی مبارک سے زیادہ طاقتور کون ہو گا جسے پارلیمنٹ میں مکمل اکثریت بھی حاصل تھی اور پھر تمام تر اختیارات کے ساتھ خود صدرِ مملکت بھی تھا لیکن آخرِ کار لوہے کی زنجیریں اور لوہے کا پنجرہ اس کا مقدر بنا۔قاہرہ کے تحریر چوک میں بیٹھنے والے مظاہرین کسی بھی مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے کیونکہ حسنی مبارک نے ملک کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت کو قائم ہی نہیں ہونے دیا تھا۔

اس کی سب سے بڑی مخالف جماعت اخوان المسلمون پر تو پہلے ہی پابندی لگی ہوئی تھی لہذا دوسری کوئی ایسی جماعت باقی نہیں بچی تھی جو اس کی حاکمیت کو چیلنج کرتی لہذاملک کے عوام اور سول سوسائٹی نے باہم متحد ہو کر حسنی مبارک کی آمریت کو دفن کرنے کے لئے تحریر چوک کا انتخاب کیا اور صرف سترہ دنوں میں حسنی مبارک کا اقتدار زمین بوس کر کے رکھ دیا ۔یہی حال تیونس کے صدر علی زین العابدین کا بھی تھا جس کے سامنے کھڑا ہونے کی کسی میں جرات نہیں تھی لیکن ایک شخص کی خود کشی نے ساری صورتِ حال کو بدل کر رکھ دیااور علی زین العابدین کو جان بچا کر ملک سے فرار ہونا پڑا ۔ ایران کے بے تاج بادشاہ رضا شاہ پہلوی کے جاہ و جلال کا اپنا رنگ تھا اور پورا ملک اس کے ظلم و جبر سے کا نپتا تھا۔

ایران کے روحانی پیشو ا آ ئیت اللہ خمینی نے شہنشاہ ، ایران کے ا س جاہ و جلال کے سامنے ڈٹ جانے اور قوم کو ان کے ظلم و جبر سے رہا کرنے کا بیڑہ اٹھا یا تو شہنشاہ کے حکم پر انھیں جلا وطنی کا زہر پینے پر مجبور کر دیا گیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شہنشاہِ ایران بے پناہ ظلم و جبر کے باوجود اپنے اقتدار کو بچانے میں کامیاب ہو سکا۔؟ بالکل نہیں کیوں کہ جب عوام ڈٹ جانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو پھر حکومتیں کہاں بچتیں ہیں۔تاریخِ انسانی ا س طرح کے غیر معمولی واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں پارلیمنٹ حکمرانوں کو بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ پارلیمنٹ کی اصل طاقت عوام ہوتے ہیں اور وہی پارلیمنٹ کی قوت اور بالا دستی کو تسلیم کر نے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔پارلیمنٹ عوامی خوا ہشات کی عکاس ہو تی ہے لیکن اگر وہ اس جوہر سے محروم ہو جائے تو عوام اس سے اپنی حما ئت اور طاقت واپس لے لیتے ہیں جس سے و ہ ایک عمارت اور ربر سٹیمپ بن کر رہ جاتی ہے۔

لہذا ثابت یہ ہوا کہ طاقت پار لیمنٹ کے پاس نہیں بلکہ عوام کے پاس ہوتی ہے ۔ہر حکومت تو اس بات کو ڈھنڈورا پیٹتی رہتی ہے کہ چونکہ پارلیمنٹ کی اکثریت اس کے ساتھ ہے لہذا عوام اس کے ساتھ ہیں جو کہ حقا ئق کو جھٹلانے کے مترا ف ہوتا ہے۔بڑا قائد وہی ہوتا ہے جو ہوا کی سمت کا صحیح اندازہ نگا لیتا ہے اور پھر اسی روشنی میں اپنے سارے سیاسی فیصلے کرتا ہے ۔شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کسی قائد کو بھی حقیقی سوچ کے قریب جانے نہیں دیتے۔ ایسے لوگ قائدین کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں الجھا دیتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر انھیں ایسی راہ پر ڈ ال دیتے ہیں جس سے ان کی حکومت اور اقتدار زمین بوس ہو جاتا ہے لیکن انھیں خبر تک نہیں ہوتی۔انھیں اس وقت پتہ چلتا ہے جب سب کچھ عوامی سیلاب میں بہہ جاتا ہے۔

Pakistan

Pakistan

پاکستان بھی اس وقت ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار ہے جس میں حکومت پارلیمنٹ کی مختلف سیاسی جماعتوں کی حمائت سے خود کو قوی ہونے کا عندیہ دے رہی ہے۔ ملک کی دو بڑی جماعتوں پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے حکومت کے خلاف ١٤ اگست کو لانگ مارچ کا آغاز کیا تو عوام کی کثیرتعداد کی اس لانگ مارچ میں شمولیت نے حکومت کے اوسان خطا کر دئے ۔یہ لانگ مارچ بعد میں دھرنے کی شکل اختیار کر گیا تو ہزاروں مظا ہرین اسلام آباد کے ریڈ زون اور آب پارہ چوک میں پچھلے کئی ہفتوں سے دھرنا دے کر ایک ہی نعرہ بلند کئے جا رہے ہیں کہ میاں محمد نواز شریف وزارتِ عظمی سے مستعفی ہوں کیونکہ ان انتخا بات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی لہذا وہ آئینی حکمران نہیں ہیں۔

یہی ووہ وقت تھا جب مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکومت کے گر جانے کے خوف سے دوسری سیاسی جماعتوں کی جانب حمائت کیلئے اپنا ہاتھ بڑھایا اور پارلیمنٹ کی مشترکہ اجلاس کا انعقاد کیا جس میں ملک کی ساری اہم سیاسی جماعتوں نے عمران و قادری کا ساتھ دینے کی بجائے حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا جس سے حکومت نے یہ نتیجہ احذ کیا کہ پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کی حمائت سے وہ بہت طاقتور ہو چکی ہے اس لئے اسے مظاہرین کے مطالبات پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں۔یہ غیر جمہوری سوچ تھی کیونکہ سڑک پر دھرنا دینے والی جماعتوں کو بڑے پیمانے پر عوامی حمائت حاصل ہے جو حقیقی عوامی امنگوں کی ترجمان بن چکی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف پارلیمنٹ کی جماعت ہے جس نے خیبر پختونخواہ میں اپنی صوبائی حکومت بھی قائم کی ہوئی ہے لیکن علامہ ڈاکٹر طاہرا لقادری کی پاکستان عوامی تحریک پارلیمنٹ کی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ انقلابی سوچ رکھنے والے ایسے افراد کا مجموعہ ہے جو پورے نظام کو بدلنے کا عزم رکھتی ہے ۔ اب حکومت عوامی تحریک کو گس بیٹھئے ،لشکر،اور دھشت گرد کہہ کر پکار رہی ہے حالانکہ انقلاب کا نعرہ بلند کرنے والے پاکستان کے شہری ہیں اور اپنے پروگرام کو عوام تک پہنچانے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ آئینِ پاکستان ہر شخص کو جمہوری آزادی کی ضمانت دیتا ہے جو صرف پارلیمانی سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ملک کا ہر شہری جلسے جلوس اور احتجاج سے اپنا نقطہ نظر پیش کر سکتا ہے لہذا کسی کو یہ کہنا کہ چونکہ تمھاری جماعت کی پارلیمنٹ میں نما ئندگی نہیں ہے لہذا حکو مت کے خلاف تمھارا احتجاج بے وقعت،بے معنی اور غیر آئینی ہے ایک ایسی سوچ ہے جو غیر جمہوری طرزِ فکر کی آئینہ دار ہے جسے کوئی بھی ذی شعور شخص تسلیم نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے ہر دلعزیز قائد ذولفقار علی بھٹو نے ٣٠ نومبر ١٩٦٧ کو پی پی پی کی بنیادیں رکھیں تو چند مہینوں کے اندر انھیں جنرل ایوب خان کی آمریت کے خلاف سینہ سپر ہونا پڑ گیاتھا۔

اس وقت پی پی پی پا ر لیمانی جماعت نہیں تھی کیونکہ اسے تو قائم ہوئے چند ماہ ہی گزرے تھے ،لیکن اس نے جس طرح جنرل ایوب خان کی آمرییت کے خلاف عوام کو متحد کیاوہ ایوب خان کے دس سالہ دورِ ھکومت کو خش و خا شاک کی طرح بہا لے گیا ۔اگر معیار یہی ہو تا کہ پارلیمنٹ سے باہر کی جماعتیں ا حتجاج کا حق نہیں رکھتیں تو پھر پی پی پی جو پارلیمان کی جماعت نہیں تھی، اسے ایوب خان کے خلاف تحریک چلانے کو کوئی حق نہیں تھا ۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ظلم و جبر کے خلاف بغاوت اور احتجاج کرنے کا حق ہر شہری کو حا صل ہوتا ہے اور اس کے اس حق پر کوئی قدغن نہیں لگا ئی جا سکتی۔ یاد رکھو دنیا کے سارے انقلاب سیاسی جماعتوں نے نہیں بلکہ ظلم و جبرکا شکار ہونے والے عوام نے برپا کئے تھے لہذا یہ کہنا کہ سیاسی جماعتیں ہی احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اہل ہیں آئین و قانون کی دنیا میں بے وقعت اور بے مایا ہے۔

پاکستان میں جن جنونیوں اور انقلابیوں نے کرپٹ نظام کو جڑ سے اکھار پھینکنے کا بیڑہ اٹھا یاہوا ہے پاکستان کے عوام ان کے ساتھ ہیں لہذا میری موجودہ نظام کے ناقدین سے استدعا ہے کہ وہ کسی بھی حال میں صبر وتحمل کا دامن نہ چھوڑیں کیونکہ کروڑوں انسانوں کی انھیں خاموش حمائت حاصل ہے جو ان کی فتح میں ان کی ممد و معاون ہو گی ۔انھیں یاد رکھنا چائیے کہ حق و صداقت کی خا طر اٹھائی گئی آواز کبھی بھی صدا بصحرا ثابت نہیں ہوتی لہذا وہ تبدیلی جس کیلئے وہ حکومتِ وقت سے ٹکر لے رہے ہیں اسے برپا ہو کر رہنا ہے ۔کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ تبدیلی کی ہوا کو روک سکے کیونکہ یہ عوام کے دل کی آواز ہے اور دل کی آواز کی جیت یقینی ہوتی ہے۔

Tariq Butt

Tariq Butt

تحریر: طارق حسین بٹ