fbpx

پشاور میں ہوائی فائرنگ کے دوران گولی سر میں لگنے سے بچی شدید زخمی

Peshawar Firing

Peshawar Firing

پشاور (اصل میڈیا ڈیسک) پشاور میں ہوائی فائرنگ ہوتی رہی لیکن پولیس حسب روایت نواحی علاقوں میں کاروائی سے گریز کرتی رہی، پشتخرہ میں نامعلوم سمیت سے آنے والی ہوائی گولی نے گھر میں کھیلنے والی ننھی بچی کو زخمی کر دیا، ہوائی گولی بچی کے سر میں پھنس گئی جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

پانچ سالہ فریحہ کے گھر والوں پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب انہوں نے سفید ڈھیری کی رہائشی ننھی کلی کے سر میں پھنسی گولی کو دیکھا، بچی کو زخمی حالت میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا، بچی کے سر سے خون بہہ رہا تھا اور گولی نہیں نکل رہی تھی، فریحہ کے لواحقین کے مطابق بچی کے سر سے گولی نکالنے کے لئے آپریشن کیا گیا جو اب اسپتال میں زیر علاج ہے۔
سوشل میڈیا پر ننھی فریحہ کے سر میں پھنسی ہوائی گولی کی تصاویر وائرل ہونے پر پولیس کو شدید تنقید کانشانہ بنایا گیا اور ہوائی فائرنگ کی روک تھام کے لئے پشاور کے تمام تھانوں کی حدود میں کاروائی کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی مہم چلانے کی اپیل کی گئی۔

فریحہ کے والد جو کہ ٹیکسی ڈرائیور ہیں ایکسپریس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فریحہ صحن میں کھیل رہی تھی کہ اچانک ماں کے پاس دوڑتے ہوئے آئی اور کہا کہ سر سے خون نکل رہا ہے جس پر ھم نے دیکھا تو اس کے سر میں گولی پھنسی ہوئی تھی، بچی کو اسپتال لیکر گئے، ڈاکٹرز نے آج اسکے سر کا حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اسپتال میں آپریشن کیا اور گولی کو دماغ کے پاس پہنچنے سے روک لیا، گولی نکل گئی لیکن ابھی تک فریحہ بے ہوش ہے ایک ہوائی گولی نے ہمارے ہنستے بستے گھرانے کو رلا دیا۔

واقعے کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشنز پشاور یاسر آفریدی نے بتایا کہ پشاور پولیس روزانہ کی بنیاد پر ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے کسی سے رعایت نہیں برتی جاتی، بچی کے سر میں گولی لگنے کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں،

ہوائی فائرنگ کے بڑھتے واقعات پر خیبر پختون خوا اسمبلی میں قرارداد بھی جمع کروا دی گئی، پیپلز پارٹی کی خاتون رکن نگہت اورکزئی کی جانب سے جمع کردہ قرار داد میں بتایا گیا کہ شادیوں کے سیزن میں پشاور میں ہر جگہ ہوائی فائرنگ سے حادثات رونما ہو رہے ہیں، ننھی فریحہ بھی ہوائی فائرنگ سے شدید زخمی ہے، حکومت ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کے اقدامات کرے اور روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔