غریب خور شیر

Elections

Elections

انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کی حکومت سے تنگ آئے عوام کو کیا کیا سہانے سپنے دکھائے تھے مگر اقتدار ملتے ہی سب وعدے “جوش خطابت میں کہی ہوئی اک بات” ہی ثابت ہوئے۔ روشن پاکستان کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ آہ کتنی بھولی عوام ہے، اک بار بے وقوف بنی، پھر بنی اور بنتی چلی جائے گی۔

دو ماہ میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، ضروریات زندگی کی سستے داموں فراہمی، بے روزگاری کا خاتمہ، ترقیاتی کاموں میں نمایاں اضافہ اور نہ جانے ان جیسے کتنے اور وعدوں کے عوض غریب کی ہمدردی اور ووٹ حاصل کئے گئے مگر صد افسوس کہ جس غریب کے ووٹ سے یہ لوگ اسمبلی میں پہنچے آج اسی کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔

آج اسی کو فاقوں مرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ میں محو حیرت ہوں کہ کس بے باکی سے ان فن کاروں نے عوام کو سبز باغ دکھا کر بے وقوف بنایا، بقول قانتہ تحریم یہاں کم ظرف لوگوں کی غضب فن کاریاں دیکھیں کرم فرما کسی حیرت کدے سے کم نہیں ہرگز کہا جاتا رہا۔

کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اقتدار میں آنے کے دو ماہ بعد ختم کر دی جائے گی۔ اب جہاں شارٹ فال کو پورا کرنے کے لئے سالوں کی تاریخ بتائی جا رہی ہے وہیں بجلی کے نرخ اس قدر بڑھا دئیے گئے ہیں کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص قطعاً افورڈ نہیں کر سکتا۔

ایک اندازے کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں براہ راست تیس فیصد اضافہ کر کے، اس پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کر کے اور اس پر اعانہ ختم کر کے حکومت عوام سے 170 ارب روپے ماہانہ بٹورے گی۔ بجلی کے نادہندگان سے 440 ارب روپے کی وصولی کبھی نہیں کی جائے گی اور غریب کا یونہی خون چوسا جاتا رہے گا۔

Electricity

Electricity

کے پی کے کے 80 فیصد لوگ بجلی کا بل ادا نہیں کرتے جس کا عذاب بھی باقی صوبوں کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف یہی حال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہے۔ تمام پٹرولیم مصنوعات قیمتوں کی سینچری مکمل کر چکی ہیں۔ جبکہ آئی ایم ایف کی ایک شرط کے مطابق 40 سے زائد اشیائے خورونوش اور گھریلو استعمال کی۔

دیگراشیاء پر جی ایس ٹی میں مزید دو فیصد اضافہ کر کے مہنگائی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جی ایس ٹی کی شرح 17 سے بڑھ کر 19 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے تین ماہ میں مہنگائی کی شرح 8.6 فیصدتک جا پہنچی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس وقت پاکستان میں مہنگائی کی شرح 04.7 ہے مگر ماہ ستمبر میں یہ شرح 08.8 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ قمر زمان کائرہ ٹیکس کی شرح میں اضافے کو بلاجواز اور حکومتی اقدامات کو سمجھ سے بالاتر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت حزب اختلاف کو اعتماد میں نہیں لیتی۔

ادھر حکومت کے انہی اقدامات کے پیش نظر شیخ رشید کہتے ہیں کہ عوام کو ناکوں چنے چبوانے والی یہ حکومت کبھی اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گی۔ مہنگائی کی شرح میں یہ اضافہ آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضے کی شرائط کی وجہ سے ہوا۔”خالی خزانہ ” کو بھرنے کے لئے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا گیا۔

اور پھر اس قرضہ کو واپس کرنے لئے عوام پر ٹیکس لگا دئیے گئے (خاص نہ پہلے ٹیکس دیتے تھے، نہ اب دیں گے) یہ وڈیرے نہ اپنا پیسہ پاکستان لائیں گے، نہ ہی خزانہ خالی کرنے والوں کو کبھی کٹہرے میں لایا جائے گا اور نہ جاگیرداروں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔مہنگائی کی چکی میں غریب ہی پسے گا اور ٹیکس بھی یہ ہی ادا کرے گا۔ اس کے خون پسینے کی کمائی “شیر” کا پیٹ بھرنے میں لگ جائے گی مگر پھر بھی شایدیہ خود بھوکا ہی سوئے گا۔

Tajammal Mahmood Janjua

Tajammal Mahmood Janjua

تحریر : تجمل محمود جنجوعہ
tmjanjua.din@gmail.com
0301-3920428
www.facebook.com/tajammal.janjua.5