قاسم سلیمانی بے قصور افراد کو قتل کرنے والا ایرانی قصائی تھا: ٹرمپ

Donald Trump

Donald Trump

امریکا (اصل میڈیا ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ 3 جنوری کو بغداد ہوائی اڈے کے نزدیک امریکی حملے میں مارا جانے والا القدس فورس کا سربراہ قاسم سلیمانی ایک ایسا قصاب تھا جسے ایران نے بے قصور افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے بھرتی کیا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایرانی معیشت بدترین حالت میں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے کانگریس کے دونوں ایوانوں سے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب میں کیا۔

صدر ٹرمپ خطاب کے لیے آئے تو ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ان سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ لیکن صدر ٹرمپ اُنہیں نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کو اسی ایوان میں خطاب کیا جہاں 18 دسمبر کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور مواخذے کی کارروائی میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزامات پر اُن کا مواخذہ کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے خطاب کے دوران ری پبلکن ارکان وقفے وقفے سے اپنی نشستوں سے اٹھ کر صدر کا حوصلہ بڑھاتے رہے جب کہ ڈیموکریٹک ارکان صدر کی تقریر کے دوران خاموش رہے جب کہ نینسی پیلوسی نے صدر ٹرمپ کے خطاب کے اختتام پر ان کی تحریری تقریر پھاڑ دی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “ہم دہشت گردوں سے اور داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے”۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکی قومی سلامتی کا دفاع جاری رہے گا۔

امریکی صدر کے مطابق ان کی انتظامیہ امریکی شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے واسطے مشرق وسطی میں واشنگٹن کی جنگوں کو ختم کرنے پر کام کر رہی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں فورسز کی موجودگی نے امن بات چیت تک پہنچنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ افغانستان سے فورسز کی واپسی پر کام ہو رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ “گزشتہ انتظامیہ کے آٹھ سالہ دور میں تین لاکھ افراد کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑے۔ میری انتظامیہ کے صرف تین سال میں 35 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔ ریگولیٹری کم کرنے کی ہماری جرات مندانہ مہم کی وجہ سے امریکا دنیا میں تیل اور گیس کا سب سے بڑا پیداواری ملک بن چکا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی قوم کی عظیم پیداواری طاقت بحال کر رہے ہیں حالانکہ پیش گوئیاں کی جارہی تھیں کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکے گا۔ گزشتہ دو ادوار میں ساٹھ ہزار کارخانے بند ہوئے تھے۔ میری انتظامیہ میں بارہ ہزار نئے کارخانے کھلے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ نئے سیاست دان آئے اور تجارتی معاہدے نافٹا کو بدلنے کا وعدہ کر کے چلے گئے لیکن کچھ نہیں کیا۔ لیکن ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ چھ دن پہلے میں نے نافٹا کو امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے نئے معاہدے سے بدل دیا ہے۔

ہم نے چین کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ کیا ہے جو ہمارے کارکنوں کا دفاع کرے گا، امریکی حقوق دانش کا تحفظ کرے گا، ہمارے خزانے میں اربوں ڈالر لائے گا اور امریکا کی مصنوعات اور پیداوار کے لیے وسیع نئی مارکیٹیں کھولے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی آزادی کا تحفظ کرنے کے لیے ہم نے امریکی افواج پر 2200 ارب ڈالر صرف کیے ہیں، ہم نے امریکی افواج کی ایک نئی شاخ تخلیق کی ہے، یعنی خلائی فورس۔ ایک شاندار معاشرے کی تشکیل کے لیے اگلا قدم یہ ہوگا کہ ہر نوجوان امریکا کو بہترین تعلیم اور امریکی خواب کو پانے کا موقع ملے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ “میں نے حال ہی میں فخر سے اس قانون پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت سرکاری اداروں کے ملازم نئے والدین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملے گی۔ یہ ملک بھر کے لیے ایک نمونہ عمل ہوگا۔”

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کو قانون پسند امریکیوں کی پناہ گاہ ہونا چاہیے، غیر ملکی مجرموں کے لیے نہیں۔ میری انتظامیہ نے امریکا کی جنوبی سرحد کو محفوظ کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ میری انتظامیہ قومی سلامتی کا سختی کے ساتھ دفاع کر رہی ہے۔ امریکیوں کی زندگی کا تحفظ کرنے کے ساتھ ہم مشرق وسطیٰ میں امریکا کی جنگیں ختم کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔