بانجھ ہوئے سب لفظ ہمارے

 Society

Society

تحریر : نمرہ ملک

تو پھر یوں ہوا کہ سب جذبے سونے لگے۔اونچے آدرش،قوم کو کچھ دے جانے کی دھن،علاقہ سنوارنے کے خواب!سب ٹائیں ٹائیں فش!!اچھا تو نمرہ ملک! تم ے اتنی جلدی ہار مان لی؟اچھا تو کیا زینب ریپ کے بعد موٹروے حادثے جیسے واقعات نے تمہارے قلم کی گویائی چھین لی!اچھا تو کیا قوم کے معماروں نے قلم کی جگہ پہ گھناؤنے ہتھیار تھام کے بچوں سے ان کی معصومیت کے ہتھیار چھین کے توڑنا شروع کر دئیے اس لیے تم بھی جنگ ہار گئیں؟وہ جنگ جو نیکی اور بدی کی تھی،وہ جنگ جو ایمان اور شیطان کے درمیان لڑی جا رہی تھی؟اچھا توپھر یوں کہا جائے کہ شیطان اپنی شیطانیت کی بنا پہ حق والوں کے رستے کا سانپ بن گیا ہمیشہ کی طرح؟ قلم بانجھ کیوں؟لفظ اندھے کیوں؟جو کچھ تم سے علاقے کے نام نہاد ان پڑھ پٹھو،سیاسی مداری،حالات کے چرکے اوربیماری،بے حمیت معاشرتی روئیے نہیں چھین سکے،ظلم کے ہتھکنڈے اور جاہل کے پنگے نہ چھین سکے،مذہب کے نام نہاد ٹھیکیدار نہ اور ضمیر کے بیمارنہیں چھین سکے۔

۔وہ اک قلم کے بانجھ پن نے کیوں ختم کر دیا۔کیوں مکا ڈالا،کیوں لفظوں کی بے روزگاری نے سڑک پہ لمکا ڈالا؟احساس کے کاسے سے ریزگاری کیوں مک گئی؟یہ دبنگ زندگی کیوں لک گئی؟کس چارہ گر نے لفظوں سے جینے کی آس چھین لی،کس محبوب نے محبت پہ سیاہ روشنائی پھیر کے داغ لگا دیا!!ہیں؟؟؟ارررے،،،نمرہ ملک۔بقول طیب ریحان کے آئرن لیڈی،جس پہ کبھی خون اثر نہیں کر پایا،آگ کچھ بگاڑ نہیں سکی،چند معصوم آنسوؤں پہ تھک گئی؟؟کونسے آنسو؟کونسے دکھ اور کیسا درد؟ سوال تو کیا تھا۔۔۔خوب ہی کیا تھا میں نے بھی،لفظوں سے،قلم سے۔۔اور یہاں تک کہ بکھری سیاہی سے۔

پاکستانی قوم کے نامہ اعمال پہ گرتی سیاہی سے۔۔۔یہ کونسی تبدیلی لے آئے ہیں ہم اپنے ملک اور معاشرے میں۔۔کہ بیٹی کو گھر سے،باہر سے،چچا،ماموں سے،بھائی اور باپ سے یہاں تک کہ اولاد سے بھی ناموس کا خطرہ ہے!استاد سے ڈر،استانی سے خوف،بہن بھائیوں کے درمیان مکدر فضا!لوگ سڑک پہ نکلتے ڈرتے ہیں،سیاست ہمارے معاشرے میں گالی بن گئی ہے۔

صحافت کمائی کا زریعہ سمجھا جاتا ہے۔ان پڑھ اور انگوٹھا چھاپ خود کو سنئیر صحافی لکھتے اور اک اک سکینڈل سے لاکھوں کماتے ہیں۔بکاؤ میڈیا میں کوئی سچا لکھاری آجائے تو اس پہ زندگی حرام کردی جاتی ہے۔۔۔وکیل خود کو خدا سمجھتے ہیں،لیکن لوگ حق بات کے لیے بھی کورٹ کچہری جانا شرافت کے منافی جانتے ہیں۔۔دین کی بات کرنے والوں کو ملا کہا جاتا ہے،دہشت گرد سمجھا جاتا ہے اور مذہبی منافرت پھیلانے والے ناجائز دینی ٹھیکیداروں کی جیبیں اورپیٹ سڑک پہ گھسٹتی آتے ہیں،حق بات کہنے والوں کو قتل کرنا معمولی بات اور اسے ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔

جس دیس میں آئی جی تک اٹھا لیے جائیں وہاں پہ کسی ریپ اور قتل کے بارے میں انصاف کا سوچنا بھی گناہ ہے۔۔گناہ ہی ہے!اگر کوئی جی دار اپنی بیٹی کی زندگی خطرے میں ڈال کر اک مظلوم ماں بیٹی کو انصاف دلواتا ہے تو سوشل میڈیا پہ اسے پتہ نہیں کیا کچھ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔اس کی عظمت پہ بھی سوالیہ نشان اٹھ آتے ہیں۔بچوں کے ساتھ بدفعلی کر کے روزانہ کی بنیاد پہ قتل کرتے بے حیاؤں پہ تو سارے قلم اور علم گونگے ہو جاتے ہیں!
اور پھر بھی کہا جاتا ہے کہ قلم کار حق ادا نہیں کرتے!۔

قلم کار کا قلم بانجھ کیوں نہ ہو۔۔جب دیکھے کہ بیٹی باپ کے ہاتھوں لٹ گئی۔۔عور ت جس عمر،مذہب،نسل اور فرقے کی ہے۔۔لٹ جاتی ہے۔اقبال کے دیس میں لٹ جاتی ہے،قائد اعظم کے پاکستان میں ریپ ہو جاتی ہے۔خیر قائد اعظم کے مزار پہ بھی لٹ جاتی ہیں۔وہ فل لباس میں ہو،ننگی پنڈلیاں اور بنا آستین لے کے گھومے،ریپ کر دی جاتی ہے۔۔اس کا لباس مسئلہ نہیں،اس کی نسوانیت مسئلہ ہے۔ہوس زدہ زہنیت مسئلہ ہے!عورتکی عمر دادی نانی کی ہے یا نواسی پوتی کی،لٹ جاتی ہے اور کیس داخل دفتر ہو جاتے ہیں۔۔وہ پاکدامن ہے یا طوائف،وہ معصوم ہے یا معتوب!وہ قبر میں بھی لیٹی کسی وزیرے اور کسی ریاض کی ہوس کا نشانہ بن جاتی ہیں،ہوس زدہ لوگ،اللہ اور دوزخ کے عذاب سے نہ ڈرنے والے قبر میں لیٹی عورت کا بھی ریپ کرنے سے باز نہیں آتے۔اور پھر ڈھٹائی سے اعتراف کرتے ہیں کہ بس اڑتالیس ہی قبریں تھیں جن کی کچھ عرصے میں بے حرمتی کی ہے۔۔۔

صرف اڑتالیس!! نمرہ ملک! تف ہے ایسے قلم پہ جو کسی قبر میں لیٹی عور ت کے ریپ پہ انصاف نہیں دلا سکتا! نمرہ ملک! تف ہے ایسے نظام پہ جہاں ابھی تک ریپ کیسز کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی گئی اور جو کی گئی وہ بس ڈھونگ ہے! نمرہ ملک! تف ہے ایسے جمہوری مملکت کے تمام سیاسی اور سماجی معاشرے پہ جہاں تین سال سے لے کر قبر میں لیٹی مردہ عورت تک کی عزت محفوظ نہیں! بانجھ صرف قلم کو نہیں ہونا چاہئیے،بانجھ اس معاشرے کی ہر اس عورت کو ہونا چاہئیے جس کے بطن سے پیدا کی ہوئی اولاد کسی دوسرے کے بطن کو حرام زدگی کا نشانہ بناتی ہے۔بانجھ صرف تمہارے لفظ نہیں ہوئے نمرہ ملک! بانجھ تو یہ سارا نظام ہے جہاں کسی کو انصاف نہیں دیا جاتا،بانجھ عدل،بانجھ سرکاری محکمے،بانجھ رشتے،بانجھ حیا اور بانجھ قلمدان۔۔بانجھ سیاست،،سب بانجھ ہے۔

جس دیس میں عورت اپنے شوہر کی محبت کو ترسے اور شوہر ون نائٹ لور ہو،عورت اپنی تسکین دیور اور بوائے فرینڈز سے کرے اور شوہر آنکھ چرا کے اسے کہے۔۔تمہاری مرضی! تم اپنی زندگی جیو ہم اپنی جئیں،،،گویا تم اپنی جگہ چپ چاپ زنا کیے جاؤ،مجھے آزادی سے کرنے پہ کوئی ہنگامہ مت کرو،بلکہ کوئی اچھی سیکسی دوست ہے تو اس کا نمبر بھی دو!تف ہے! جس ملک میں سرعام خون بہتا اور پھر چھپا دیا جاتا ہو،جس قوم میں لواطعت پسندی جڑ پکڑ لے،ڈانسنگ پارٹیز میں صرف تیسری صنف کو خریدا جائے اور پھر فخریہ اس پہ اکڑا بھی جائے،لعنت ہے ایسے معاشرے پہ! تو پھر نمرہ ملک!قلم کو تو بانجھ ہونا ہی ہے نا!ایسے لوگوں پہ اپنی توانائیاں کیوں ضائع کی جائیں؟ان غیر ملک آفرز پہ غور کیوں نہ کیا جائے جو آپ کے ہنر،قلم اور تخلیق کو خرید کے آپکو مالا مالا کر دینا چاہتے ہیں۔۔غور کرنا نمرہ ملک!غور کرنا! پیسہ،دولت،شہرت اور شہریت!سب ملے گا۔۔۔ایسے تعفن زدہ معاشرے کی اصلاح پہ وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی دنیا سنوارنے کی کرو!قلم بانجھ نہیں ہے!نمرہ ملک یہ معاشرہ بانجھ ہے۔

Nimra Malik

Nimra Malik

تحریر : نمرہ ملک