مغرب اور یوکرائن حکومت کی حرکتوں نے یوکرائن کو المیے کی طرف دھکیل دیا ہے: لاوروف

Sergei Lavrov

Sergei Lavrov

روس (اصل میڈیا ڈیسک) روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ ہم یوکرائن پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

لاوروف نے دارالحکومت ماسکو میں نام نہاد عوامی جمہوریہ لوہانسک کے وزیر خارجہ ولادی سلاو دینیگو اور نام نہاد عوامی جمہوریہ دونیتسک کے نائب وزیر خارجہ سرگے پیرے سادا کے ساتھ ملاقات کی۔

لاوروف نے کہا ہے کہ “مغرب نے کیف میں شہریوں کے خلاف فوجی جرائم کو نظر انداز کیا ہے۔ مغرب اور یوکرائن کی حرکتوں نے یوکرائن کو المیے کی طرف دھکیل دیا ہے”۔

انہوں نے کہا ہے کہ کیف نے یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہ ہونے کا کہہ کر جوہری اسلحہ حاصل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ایسی صورت میں ہم لوہانسک اور دونیتسک کی طرف سے امداد کی اپیل کو رد نہیں کر سکتے تھے۔ اتحاد کی ہم پر عائد کردہ ذمہ داریوں کے دائرہ کار میں روس کے صدر ولادی میر پوتن نے یوکرائن کو ملٹری ازم اور نازی ازم سے پاک کرنے اور اس طرح یوکرائن کے عوام کو ظلم سے نجات دِلا کر آزادانہ شکل میں اپنے مستقبل کے تعین کا موقع دینے کے لئے آپریشن کا فیصلہ کیا۔

لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرائن کے صدر ولادی میر زلنسکی نے ،روس کے مذاکرات کی طلب رد کرنے کے بارے میں، دروغ گوئی کی ہے۔ ہم نورمانڈیا مذاکرات میں کئے گئے فیصلوں کے اطلاق کے خواہش مند نہیں تھے۔ یوکرائن پر قبضے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے لئے، یوکرائن کی موجودہ حکومت کو جمہوری قبول کرنا ناممکن ہے۔ حالِ حاضر کی حکومت باہر سے لائی گئی حکومت ہے اور روس اور یوکرائن کے عوام کی آزادی کی خواہش مند ہے۔

وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرائنی فوج لڑنا بند کرے تو ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ ہم یوکرائنی عوام پر حملے کا کوئی پروگرام نہیں رکھتے۔ ہم یوکرائن پر صرف نیو نازیوں کی حکومت کے خلاف ہیں۔