وزیرستان آپریشن

Syria

Syria

عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جنگ یاکسی اور وجہ کے باعث اپنے یا دوسرے ممالک میں ہجرت کرنے والوں کی تعداد پانچ کروڑ تک پہنچ گئی ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ برما،شام،صومالیہ، وسطی افریقہ اور جنوبی سوڈان میں جنگ کی وجہ سے مہاجرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، مہاجرین میں 25 لاکھ افغان باشندے ہیںجو سب سے زیادہ ہیں اور پناہ دینے والے ممالک میں پاکستان سب سے بڑا ملک ہے جس میں 16لاکھ مہاجر پناہ گزین ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میںعسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن عضب شروع کیا جا چکا ہے امریکہ بڑے عرصے سے یہاں پر ڈرون حملے بھی کر رہا ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں وہاں سے جو لاکھوں قبائلی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں ان کی مدد پر کسی پاکستانی کو کوئی اختلاف نہیں بلکہ ہمارا مذہب تو دیگر مسلمان متاثرین کے مدد کے لئے بہت ترغیب دلاتا ہے قرآن کریم میں بھی ارشاد باری تعالی ہے۔

جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور جہاد کیا اور جنہوں نے ان کی مدد کی اور پناہ دی وہی سچے مومن ہیں یعنی کسی بھی مجبوری کی وجہ سے گھر بار چھوڑنے والے قریبی مسلمانوں کی مدد کرنادیگرصاحب مال مسلمانوں پر فرض ہے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے مہاجرین کے لئے بھی انصار مدینہ نے اپنے گھروں، اموال و جائیداد کے دروازے کھول دئیے تھے۔

شمالی وزیرستان کے آپریشن کی وجہ سے شمالی وزیرستان سے بنوں تک تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر محیط سڑک پر میر علی اور دیگر علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا انخلاء شروع ہو چکا ہے،کرفیو کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی سخت قلت ہے ،تحصیل غلام علی اور میران شاہ سے اب تک 52ہزاراور میر علی اور رزمک سے 72ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے قابل ذکر ٹرانسپورٹ اور سہولیات کی کمی ہے یہ لوگ انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان کے کئی علاقوں میں منتقل ہورہے ہیں ان افراد میں بڑی تعداد عورتوں ،ننھے بچوں اور بزرگوں کی بھی ہے جو مال مویشی سمیت پیدل اور خراب سواریوں پر سفر کر کے وہاں سے نکل رہے ہیں ان میں حاملہ عورتیں بھی شامل ہیں رپورٹس کے مطابق ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر بھی ڈلیوری کے واقعات ہو رہے ہیںشدید گرمی سے عورتیں بچے بیہوش ہو رہے ہیں۔

خراب گاڑیوں اور سڑکوں کی وجہ سے حادثات میں بھی ہلاکتیں ہو رہی ہیں زیادہ تر متاثرین بنوں ، کرک، ڈیرہ اسمعٰیل خان، کوہاٹ، ہنگو اور دیگر اضلاع کی طرف جا رہے ہیں جہاں وہ اپنے طور پر کرائے کے مکانات، رشتہ داروں اور دوستوں عزیزوں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہو رہے ہیں متاثرہ علاقوں میں کرفیو کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

شمالی وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کوخیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے فی متاثرہ خاندان کو مکان کا کرایہ اور رمضان پیکیج دینے کا اعلان کیا ہے ان حکومتی وعدوں پر شفاف عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔متاثرین کی امداد سے پاکستان کی معیشت پر بھی دبائو آنے کا خدشہ ہے لیکن امید ہے کہ عالمی طور پر اسلامی ممالک اورخصوصا سعودی عرب کی امداد آنے سے صورت حال بہت بہتر ہو جائے گی۔

اس وقت ملک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور رمضان کی بھی آمد ہے جبکہ متاثرین میں زیادہ تعداد اسلام پر مکمل عمل کرنے والے لوگوںاور پردہ دار عورتوں کی ہے جن کے لئے سحری اور افطاری کا انتظام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ان افراد کے لئے نیم خود مختار قبائلی ایف آر بکاخیل اور دیگر علاقوں میں متاثرین کیمپ قائم کئے گئے ہیں لیکن وہاں سہولیات کا فقدان ہے اور سیکورٹی کی حالت بہت نازک ہے۔

اس صورتحال میں ان افراد کی امداد کے لئے قومی جذبے سے سب جماعتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں تحریک انصاف ، فلاح انسانیت فائونڈیشن اور جماعة الدعوة، الخدمت فائونڈیشن کے علاوہ کئی جماعتوں نے امدادی آپریشن شروع کیا ہے معمار ٹرسٹ اور جماعت اسلامی کا کام ہمیشہ سے اس معاملے میںسب سے زیادہ شاندار رہا ہے لیکن ابھی تک یہ سب کام بھی اس قیامت خیز گھڑی میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیںاس کے لئے پوری قوم کو جنگی جذبے سے مل کر کام کرنا ہو گا۔

زلزلہ، سیلاب اور دیگر آفات میں جماعةالدعوة، جماعت اسلامی اور کئی دینی وسیاسی جماعتوں نے امدادی سرگرمیوںمیںبہت کام کیا ہے۔ سوات ، مالاکنڈ کے متاثرین کے لئے بھی سب جماعتوں نے بہت امدادی کام کیاجماعةالدعوة پاکستان کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید اور چئیر مین ایف آئی ایف حافظ عبد الرئوف نے متاثرین کی امداد کے لئے ریلیف آپریشن شروع کرتے ہوئے امدادی سامان کی پہلی کھیپ روانہ کر دی ہے جماعةالدعوةو فلاح انسانیت فائونڈیشن کی طرف سے لاہور میں مرکز القادسیہ چوبرجی سے جمعہ کے روز 2 ہزار سے زائد خاندانوں کیلئے 50 لاکھ روپے مالیت کا سامان بنوں، ڈیرہ اسمٰعیل خاں، کرک، ژوب و دیگر علاقوںمیں 10ٹرکوںکے ذریعے روانہ کیا گیا ہے اس امدادی سامان میں آٹا، چاول، گھی، چینی اور دیگر اشیائے خورونوش شامل ہیں۔

Hafiz Mohammad Saeed

Hafiz Mohammad Saeed

اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعة الدعوة پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر ان سب محب وطن قبائلی متاثرین کے سحروافطار، رہائش اور دیگر ضروریات کابندوبست کریں گے انہوں نے اپیل کی کہ اس سلسلے میں پوری قوم دل کھول کر متاثرین کی مدد کرے فلاح انسانیت فائونڈیشن پاکستان کے چیئرمین حافظ عبدالرئوف، میڈیا پرسن عاصم علی اور سلمان شاہد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرستان آپریشن متاثرین کی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے’ہم ہر گھر میں راشن پہنچائیں گے،متاثرین کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے فیلڈ ہسپتال بھی بنایا جائے گا جس میں سرجیکل یونٹ بھی ہو گا۔

فلاح انسانیت فائونڈیشن کے چیئرمین حافظ عبدالرئوف امدادی کاموں کی خود نگرانی کر رہے ہیںجماعةالدعوة کی طرف سے سروے کا عمل جاری ہے جس کے بعد متاثرین میں خشک راشن بھی تقسیم کیا جائے گا۔ایف آئی ایف کے چیئرمین حافظ عبدالرئوف کا کہنا ہے کہ متاثرین کے معمولات زندگی بحال ہونے تک امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

Pakistan

Pakistan

پاکستان کے عوام ،جماعتوں اور حکومت کی طرف سے ریلیف آپریشن سے غیر ملکی این جی اوز کا ریلیف ورک کی آڑ میں اسلام و ملک دشمنی کی سازشوں کا بھی توڑ ہو گااور قبائل میں بھی عوام کا اچھا تاثر پیدا ہو گااس لئے اس ریلیف آپریشن میں سب کو فوری طور پر انتہائی سرعت سے مل جل کر کام کرنے کی اشدضرورت ہے۔

تحریر: نعیم الاسلام چودھری