مالی سال 2019-20: حکومت ریکارڈ 430 کھرب کا قرض لے گی

Loan

Loan

اسلام آباد (جیوڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اگلے مالی سال میں ریکارڈ 430 کھرب 50 ارب روپے کا قرض لے گی۔ اس رقم کا اہم استعمال اندرونی و بیرونی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی کے لیے ہوگا۔

وزارت خزانہ نے منگل کو ایک مالی سال میں سب سے زیادہ قرض لینے کے لیے قومی اسمبلی سے منظوری بھی حاصل کی۔ 430 کھرب 50 ارب روپے کا قرض مالی سال 2019-20 کے بجٹ کے مجموعی حجم 70 کھرب روپے سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ 430 کھرب 50 ارب کا قرضہ آئین کی رُو سے charged expenditure ہے جسے نامنظور کرنے کا قومی اسمبلی کو کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

پارلیمان کا ایوان زیریں ان اخراجات کو صرف زیربحث لاسکتا ہے جن میں ایوان صدر، سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد ہائی کورٹ، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، قومی اسمبلی، سینیٹ، پاکستان ریلوے، پنشن، دفترخارجہ کے دیگر اخراجات، الیکشن کمیشن کے اخراجات، وفاقی محتسب اور وفاقی ٹیکس محتسب کا بجٹ بھی شامل ہوتا ہے۔

مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے 430 کھرب 50 ارب روپے کے قرضوں کے مطالبات قومی اسمبلی میں پیش کیے۔ یہ مطالبات آئین کے آرٹیکل 82 (I) کے تحت charged expenditures کے طور پر رکھے گئے۔اس صورت میں قومی اسمبلی اخراجات کے مجوزہ بل پر بحث کرسکتی ہے اسے رد نہیں کرسکتی۔

رواں مالی سال کے لیے قومی اسمبلی نے ان لازمی اخراجات کے لیے 230 کھرب 50 ارب روپے کی منظوری دی تھی جب کہ آئندہ مالی سال کے لیے لازمی اخراجات میں 190 کھرب 80 ارب یا 83.6فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس رقم میں سے 20 کھرب 90 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ کا حصہ ہوگی جب کہ بقیہ رقم بجٹ میں شامل نہیں ہوگی اور ماضی میں لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے براہ راست مقامی اور غیرملکی مارکیٹ سے قرض لی جائے گی۔