یمن میں بغاوت مسلم ممالک کے خلاف امریکی و صہیونی جنگ

Yemen Rebels

Yemen Rebels

تحریر: ابو الہاشم ربانی
تین حقیقی بھائی کہیں جا رہے تھے راستے میں دو راہزنوں نے نقب لگانے کی کوشش کی لیکن تینوں کو اکٹھا دیکھ کر کامیاب نا ہو سکے۔ راہزنوں نے فوراً حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے روپ بدلہ اور ایک ایک کو علیحدہ کیا اور ہر ایک کو یہ ہی کہا کہ یار آپ بہت اچھے ہیں، آپ جیسا تو کو ئی دوسرا ہے ہی نہیں، ہو سکتا ہی نہیں، ہمیں آپ سے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ جو آپ کے ساتھ والا شخص ہے نا اس سے ذرا بچ کر اس کے بارے میں غلط خبریں ہیں اگر آپ کہیں تو ہم اس کا علاج کردیتے ہیں۔ ایک کی قربانی پر دونوںکو راضی کر لیا، پھر دونوں میں ایک اور آخر میں تیسرا بھی دھر لیا۔ تینوں ہلاک ہوگئے تو مال ان کا ہی تھا ۔یہی صورتحال آج مسلم ممالک کی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلم دنیا میں افغانستان سے لے کر لیبیا تک ہر ملک میں ایک عسکری تصادم برپا ہے۔ خطے کے تمام ممالک میں صہیونی یہود ی سازشیں رچتی جا رہی ہیں ۔ امریکہ کے موجودہ صدر باراک اوبامہ نے اپنی پہلی الیکشن مہم میں امریکہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے مرکز مکہ اور مدینہ پر حملہ کردے ۔ اس کا مقصد اُمت مسلمہ کو کمزرکرکے گیٹر اسرائیل کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے ۔ اس کا ساتھ دینے کے لیے امریکہ اپنے تمام اتحادیوں اور وسائل کو استعمال کر رہا ہے ۔ چھوٹا امریکہ اسرائیل اور بڑا اسرائیل امریکہ مل کر بھر پور کوشش میں ہیں کہ کسی طرح سے ایران اور سعودی عرب کا آپس میںٹکرائو ہو جائے جس سے پورے عالم اسلام میں شیعہ سنی فسادا ت وسیع پیمانے پر بھڑک اٹھیں اور مشرق وسطیٰ میں خصوصاََ حرمین الشریفین کے خلاف ان کے ناپاک ارادے پورے ہوں ۔کیوں کہ یہودیوںنے اعلان کر رکھا ہے کہ مسلمانوں کے نبیۖ نے انہیں جزیرة العرب سے نکالنے کا حکم دیا تھا،اس لیے وہ حرمین شریفین پر قبضہ کر کے رہیں گے۔اپنے قبضے کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے وہ ہر قسم کی سازش کر رہے ہیں۔ اپنی خناسی ذہنیت کو استعمال کرتے ہوئے پہلے انہوں نے عراق کو اُجاڑا، پھر لیبیا کو برباد کیا، شام میں انتشار پھیلایا اور اب یمن میں بغاوت کھڑی کر دی ہے۔

ان کی یہ ناپاک سازشیں ایک اندھے شیش ناگ کی مانند ہیں جو اب حرمین شریفین کی طرف پھنکار رہا ہے ۔مسلم دنیا کو اپاہج کر کے اسے بے جان کردینے کے لیے امریکہ و اسرائیل کی جانب سے جو ناپاک منصوبہ بندی جاری ہے وہ شام عراق لیبیا سے ہو کر یمن کے ذریعے سعودی عرب کی دیوار کے ساتھ پہنچ چکی ہے اور ان کا اگلا ھدف مسلمانوں کے روحانی مراکز حرمین شریفین ہیں ۔ امریکہ نے بعض این جی اوز کے ذریعہ یمن میں فساد برپا کر وا کر اس ملک کو برباد کر دیا ہے۔ حرمین شریفین کے قریب ترین علاقے میں شورش برپاکر کے وہاں اپنے مستقبل کے ارادوں کو ظاہر کر دیا ہے ۔ اس سازش کو پروان چڑھانے کے لیے نیٹو کے وہ ممالک جنہیں افغانستان میں جہادیوں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست ہوئی ہے اُس کا انتقام لینے کے لیے ان سازشوں میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

America

America

صہیونی اور امریکی مسلمانوں کے کمزور پہلو دیکھتے ہی وہیں سے سازشوں کا آغاز کر دیتے ہیں ۔ نام نہاد دہشت گردی کا راگ الاپ کر مسلم ملک عراق اور افغانستان پر ساری دنیا کی فوجوں کی مدد لے کر ایسا حملہ کیا کہ دونوں ملک تباہ و برباد کردئے ۔ بارود کی بارش ، جدید ٹیکنالوجی کے جوہر دیکھائے ، نہتے افغان پر کاپیڈڈ بمباری کی ، ملک جلے ، املاک تباہ ہوئیں، عصمتیں لٹیں۔ ہمارے سیاستدان ، دانشور، صاحب علم و حکمت اور اینکر پرسن یہی پٹتے رہے ” سب سے پہلے پاکستان” ”سب سے پہلے ہم”۔ غرض پورا عالم اسلام تماشائی بنا، سلطان صلاح الدین ایو بی اور سید پیر عبد القادر جیلانی کا دیس لٹ گیا ۔ سلطان شہاب الدین غوری اور سلطان محمود غزنوی کا وطن کھنڈر بن گیا ۔ غوری غزنوی کے بیٹوں نے افغانستان میں اپنے آبا کی لاج رکھی، عالمی صلیبی اور صہیونی یلغار کے مقابلے میں سینہ سپر ہوگئے، عرش بریں سے مدد و نصرت کی برکھا برسی ، دشمن کا غرورو گھمنڈ خاک میں ملا ، جرأت کا پیغام ملا، اتحادی لاشیں چھوڑ کر بھاگے۔ جدید ٹیکنالوجی نیلام ہوئی ، دنیا نے خریداری کی۔ اگلی منزل کفار کی حکومتیں گرنے اور ان کا معاشی نظام تباہ ہونے کے مناظر صلیبی و صہیونی پالیسی ساز دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ آندھے ہو چکے ہیں ۔ عربوں کے تیل و گیس اور دیگر معدنی ذخائر کے لیے رال ٹپکا رہے ہیں ۔
عربوں کے سولہ ممالک میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر جو اس وقت دنیا کی اکتیس فیصدسے زائد توانائی کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں ۔ اِن کا معیار میں بھی دنیا کے دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک سے بہت زیادہ بہتر ہیں ۔ان ممالک میں تیل کے 14 لاکھ 81 ہزار بلین بیرل اور گیس کے 187کھرب 30 ارب کیوبک میٹر کے ذخائر موجود ہیں ۔ لندن واشنگٹن کے بعد اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو موجودہ دنیا کا تیسرا عالمی دارلحکومت (Ruling Capital) بنانے کا خواہش مند ہے۔ طاقت کا منبع اب اسرائیل منتقل کرنے کی عالمی سازش جاری ہے ۔ یروشلم نئی یواین کی میزبانی کرنے سے قبل عرب ممالک میں موجود توانائی کے منابع اپنے ہاتھ میں کرنا ضروری سمجھتا ہے ۔اسی کے ذریعے سے وہ چین اور روس جیسی دیگر فوجی طاقتوں کو قابو میں رکھ سکے گا اور اس کا گیٹر اسرائیل منصوبہ تکمیل کو پہنچے گا ۔ عالمی گریٹ گیم کے نام پر اپنی یہ دجالی سوچ وہ پوری دنیا پرنافذ کرنا چاہتا ہے۔

اپنی اس ناپاک خواہش کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے خطہ عرب میں مسلسل ایک جنگ ہے جو لڑی جارہی ہے ۔اس جنگ کا خوبصور ت نام بھی رکھا گیا ہے ”عرب سپرنگ” یعنی عرب میں بہار۔ اگراس اندھے شیش ناگ کو یمن میں نہ کچلا گیا تو حرمین شریفین بھی بیت المقدس کی طرح مقبوضہ علاقے کہلائیں گے۔ یہ سب صلیبی و یہودی منصوبہ بندی کے تحت سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی خوفناک سازشوں کا حصہ ہے ۔دشمن انتہائی شریر اور انتہائی مکار ہے۔پاکستان میں سنیوں کے ذریعے فتنہ خوارج برپا کیا۔

انہیں افغانستان میں امریکی کیمپوں میں تربیت دی ۔ ان پر اتحادیوںو انڈیا کی جانب سے ڈالر نچھاور کیے گیے جس سے وطن عزیز پاکستان لہو لہو ہوا، آپ یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ شام میں شیعہ سنی فرقہ واریت اُچھالی اور آگ لگا دی جو ابھی تک جل رہا ہے ۔ معمر قذافی کا خون پی کر لیبیا لوٹ لیا۔ اب یمن میں حوثی بغاوت کے نام پر قتل مسلم جاری ہے۔ حوثیوں کی تربیت بھی افغانستان میں امریکی کر رہے ہیں، ڈالر صہیونی اور امریکی خرچ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف شام و عراق میں نام نہاد دولت اسلامیہ کھڑی کر کے خون مسلم کیا جارہا ہے ۔ اسلام کا شیعہ سنی کٹ رہا ہے جبکہ مقاصد دشمن کے پورے ہورہے ہیں۔ بیٹے اسلام کے ہیں مگر ہرکارے دشمن کے ہیں۔شیعہ سنی صدیوں سے چلے آرہے ہیں مگر آج ایک دوسرے کے خون کے کیوں پیاسے ہیں ؟ وہ ہاتھ پہچانیے جو یہ دیشہ دوانیاں کر رہے ہیں ۔ذرا غور کریں عیسائی اور یہودی دو مذاہب ہیں اصل میں بنی اسرائیل کے دو فرقے ہیں ۔ نظریات میں اتنے شدید اختلافات کہ عیسائی یہودیوں کو جناب عیسیٰ علیہ السلام کی صلیب کا مجرم اور اُن کا قاتل کہتے تھے ۔ آج یہود ی اور عیسائی شیر و شکر ہیں اور بت پرست ہندو بھی اُن کیساتھ ہیں ، کیمونسٹ روس بھی اُن کا اتحادی ہے ۔ قتل و غارت دہشت گردی اور بغاوت صرف مسلمان ممالک اور مسلمان فرقوں میں ہے۔ مسلمانوں کی آنکھیں کیوں نہیں کھولتی کہ اُن کے باہمی انتشار اور خون خرابے کے ذمہ دار صلیبی اور صہیونی ہیں ۔ایران برادر مسلم ملک ہے اس کا نعرہ رہا ہے ”امریکہ مردہ باد” ” اسرائیل مردہ باد” اتحاد بین المسلمین ” پھر کیا وجہ ہے کہ ایران حوثی باغیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکہ روس سمیت بڑی طاقتیں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کر رہے ہیں۔

Israel

Israel

پوپ فرانسس اسے خوش آئند قرار دے رہے ہیں ۔ معاہدے پر تو اختلاف ہو رہا ہے کہ ایران کو کچھ نہیں ملا ہزار صفر برابر صفر ہے مگر ایک تکلیف دے بات ہے کہ ایران کے اتحادی امریکہ روس اور بڑی طاقتیں ہیں اور اُس کو تھپکی دے رہے ہیں کہ ڈٹ کر رہنا ہے ۔ دوسری طرف عرب ممالک عالم اسلام سے مدد مانگ رہے ہیں ایران کے ساتھ کفار حکمومتیں ساز باز کررہی ہیں ۔ ایران کو ہوش کرنا چاہیے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں امریکہ ،جس کا دوست ہو اُس کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ۔ ایران سے گزارش ہے کہ وہ صہیونی امریکی دامن چھوڑ کر عالم اسلام کے اتحاد میں شامل ہو ۔ صہیونی امریکی سازشوں کو مل کر ناکام بنائیں اسی میں خیر ہے ، اسی میں اُمت مسلمہ کی بقاء ہے ۔ افسوس ہے کہ آج پھر صاحب علم و دانش ، سیاستدان ، تجزیہ کار حتیٰ کہ علمائے کرام اور دینی قائدین وہی راگ آلاپ رہے ہیں کہ سعودی عرب کو کوئی خطرہ نہیں ۔ یہ یمن کے شیعہ سنی کی لڑائی ہے ۔ مسلمانو! اللہ سے ڈرو ، دشمن کو پہچانو ، سازشوں کو سمجھو اگر یہ ہی صورت حال رہی تو ایک ایک کر کے سب مرجائوگے اور اپنے ملک تباہ و برباد کروالو گے ۔ سارے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں ، سارا جہاں ہمارا وطن ہے تو پھر ایک میں آگ لگی ہے ، خون بہہ رہا ہے وہاں ہی دشمن سے ٹکراجائو، دشمن کو نیست و نابود کر دو ، جہاد فی سبیل اللہ کی یلغار کر کے کفر کا فتنہ ختم کرنے کا عزم کولو دشمن مٹ جائے گا اور عالم اسلام بچ جائے گا ۔یہ جنگ سعودی عرب کی نہیں اور نہ ہی عرب ممالک کی ۔ یہ جنگ سارے عالم اسلام کی جنگ ہے۔

سعودی عرب اگر عالم اسلام کا رحانی مرکز ہے تو پاکستان دفاعی مرکز ہے ۔ حرمین شریفین کے ساتھ کل بھی ایمان اور اسلام کا رشتہ تھاجو آج بھی قائم ہے اوران شاء اللہ تاقیامت رہے گا۔حکومت پاکستان نے قوم کی امنگوں کے مطابق سعودی عرب کی مددوحمایت کا بہترین فیصلہ کیاہے پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کیلئے بھرپور کردار اداکرنے کا اعلان بہت خوش آئند ہے۔حکومت کا یہ فیصلہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔پاکستان اس وقت دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔شاہ سلمان بن عبد العزیز ، ترک وزیراعظم احمد دائود اگلواور میاں محمد نواز شریف عالم اسلام کے لیڈر کے طور پر خود کو پیش کریں ، مسلم ملکوں کو ساتھ ملا کر عالم اسلام کے دفاع کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ مسلم ممالک کے سربرہان کو غور سے ان سازشوں کو سمجھتے ہوئے ناکام بنانا چاہیے۔یہ بات بھی بہت خوش آئند ہے کہ سعودی شاہ سلمان بن عبد العزیز نے عرب روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس مرتبہ اپنے دشمن کو پہچانا ہے ،اسلام دشمن عالمی اداروں اور امریکی چنگل سے نکل کر عرب ممالک کے عسکری اتحاد کے ساتھ میدان میں اُترے ہیں۔

Muslim Countries

Muslim Countries

عرب لیگ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مسلمانوں کو فرقہ واریت کے ذریعے تقسیم کرنے کی سازشیں اب نہیں چلیں گی ۔ اجلاس میں مشترکہ دفاع کی اہم تجویز کا دائرہ کاربڑھاتے ہوئے اس میں دیگر تمام مسلم ممالک کے سربراہان سے بھی مشاورت کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کرنسی اور تجارت کی پالیسی بھی مرتب کی جائے ، اسلام کی نشاة ثانیہ کے لیے یہ کارواں جاری رکھا جائے۔ مسلم حکمرانوں کا سیاسی و عسکری اتحاد ضروری ہے متحد ہوکر عالم اسلام کے خلاف جاری یہود و نصاریٰ کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ یہ صدی اسلام کی صدی ہے۔ ان شاء اللہ اسلام غالب ہو گا ، انسانیت کو ظلم و جبر اور غلامی سے نکال کر امن و سلامتی دے گا۔

تحریر: ابو الہاشم ربانی
امیر جماعة الدعوة لاہور
برائے رابطہ:03349755107