اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب و تفتیشی آفیسر معروف رینٹل پاور کیس کامران فیصل کی قبر کشائی ۔

میاں چنوں (جی پی آئی)اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب و تفتیشی آفیسر معروف رینٹل پاور کیس کامران فیصل کی قبر کشائی کرکے فرنزک سائنس لیبارٹری لاہورکی ٹیم جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن رانا محمدنصیر،ڈاکٹر محبوب جیلانی،ڈاکٹر محمد نعمان،عبدالناصروغیرہ اپنے سٹاف کے ساتھ موجود تھے نے کامران فیصل کی میت قبر سے نکال کر لاش سے مطلوبہ نمونہ جات حاصل کرلئے۔

قبر کشائی کی نگرانی علاقہ مجسٹریٹ شفیق احمد شفیع نے کی اس موقعہ پراسلام آباد پولیس سے کامران فیصل قتل کیس کی تفتیشی ٹیم انسپکٹر مبارک علی ،اے ایس آئی محمد عمران،اے ایس آئی محمد اکرم ،اے ایس آئی محمد خرم اور لیڈی انسپکٹر صدف بشارت شامل ہیں موجود تھے علاوہ ازیں کامران فیصل کے والد عبدالحمید ،تایا ڈاکٹر محمد سعید،چچا ڈاکٹر طارق مسعودسمیت رشتہ داروں واہل علاقہ کی بڑی تعدادبھی قبرستان میں موجود رہی۔

یاد رہے کہ کامران فیصل کے والد عبدالحمید نے علاقہ مجسٹریٹ شفیق احمد شفیع کی عدالت میں دوبارہ پوسٹمارٹم کیلئے باقاعدہ درخواست بھی دائر کردی ہے جس میں آئندہ تاریخ پیشی -11فروری مقرر کی گئی ہے ۔اس تمام سلسلہ کے دوران لواحقین یہ کہتے رہے کہ ہم نے تو قبر کشائی کی کوئی درخواست نہیں دی تھی اور نہ ہی ہمیں باقاعدہ طور پر کسی نے اب تک تحریری طور پر مطلع کیا کہ کس کے کہنے پر قبرکشائی کی کارروائی کی جارہی ہے۔

جس پر علاقہ مجسٹریٹ شفیق احمد شفیع کا کہنا تھا کہ یہ فرنزک لیبارٹری نے تفتیشی ٹیم کو لکھا تھا کہ جو نمونہ جات ہمیں ارسال کئے گئے ہیں یہ ناکافی ہیں اور اس بات کی بھی تصدیق نہیں کہ یہ نمونہ جات کامران فیصل کی لاش کے ہیں لہٰذا تفتیشی پولیس آفیسر اور فرنزک لیبارٹری کی درخواست پر یہ قبرکشائی کی گئی ہے اور فرنزک لیبارٹری والے لاش کے نمونہ جات خود حاصل کررہے ہیں۔

نمونہ جات لینے کے بعد تفتیشی آفیسر مبارک علی اور فرنزک لیبارٹری ٹیم کے دوران کافی دیر تک سخت زبانی ہوتی رہی جس میں تفتیشی پولیس آفیسر کا کہنا تھا کہ آپ نے ضرورت سے زیادہ نمونہ جات حاصل کئے ہیں لہٰذا میں ان پر دستخط نہیں کروں گا صورتحال کی نزاکت اور میڈیا کی موجودگی وجہ سے علاقہ مجسٹریٹ دونوں ٹیموں کو نمونہ جات سمیت عدالت میں اپنے ساتھ لے گئے ۔ بعدازاںمیت کی تدفین لواحقین نے نیا کفن پہنا کر خود کی۔