فرح دیبا پہلوی

ایران کی آخری ملکہ اور پہلوی خاندان کے آخری فرمانروا

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

فرح دیبا پہلوی، 1972 میں دور امریکہ کے موقع پرفرح دیبا ایران کی آخری ملکہ اور پہلوی خاندان کے آخری فرمانروا محمد رضا پہلوی کی تیسری اہلیہ تھیں۔

 

ابتدائی زندگی
وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں پیدا ہوئیں۔ اپنے والدین سہراب دیبا اور فریدہ قطبی کی واحد اولاد تھیں۔ والدہ کا تعلق گیلان سے تھا جبکہ والد ایران کی شاہی فوج میں عہدیدار تھے جن کے آبا و اجداد ایرانی آذربائیجان سے تعلق رکھتے تھے۔ فرح کے والد کا انتقال ان کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔

تعلیم و شادی
فرح نے تہران کے فرنچ اسکول اور پیرس کے cole Spciale d’Architecture میں تعلیم حاصل کی۔ طالبعلمی کے زمانے میں ان کا شاہ سے تعارف ہوا اور 21 دسمبر 1959 کو وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ فرح سے شاہ کی چار اولادیں ہوئیں جن میں دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں تھیں۔

رضا پہلوی(پیدائش: 30 اکتوبر 1960)
فرح ناز پہلوی(پیدائش: 12 مارچ 1963)
علی رضا پہلوی(پیدائش: 28 اپریل 1966)
لیلا پہلوی(پیدائش: 27 مارچ 1970 انتقال: 10 جون 2001)
شادی اور تاجپوشی کے بعد بھی ملکہ کی حیثیت سے وہ فن و ثقافت کے شعبے میں متحرک رہیں۔

انقلاب و جلاوطنی

فرح پہلوی 1967 میں تاجپوشی کے بعد اہل خانہ کے ہمراہ انقلاب ایران کے ساتھ ہی وہ شاہ کے ہمراہ ملک چھوڑ گئیں۔ اس سے چند روز قبل ہی تمام بچوں کو امریکہ میں رہائش پذیر فریدہ دیبا(والد ملکہ) کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ شاہ اور ملکہ پہلے مصر گئے۔

پھر مراکش، بہاماس، میکسیکو، امریکہ اور پاناما میں قیام کے بعد دوبارہ مصر واپس آئے جہاں دونوں 27 جولائی 1980 کو شاہ کی وفات تک قیام پذیر رہے۔ بعد ازاں فرح نے گرینوچ، کنیکٹیکٹ میں ایک گھر خریدا اور 2001 میں لیلا پہلوی کے انتقال(خودکشی) کے بعد اس گھر میں بھی رہائش ترک کر دی اور اور واشنگٹن ڈی سی کے قریب پوٹوماک، میری لینڈ میں ایک گھر خرید لیا تاکہ اپنے بیٹوں اور پوتوں کے قریب رہ سکیں۔

اب ان کا بیشتر وقت واشنگٹن، نیویارک، پیرس اور قاہرہ میں گذرتا ہے۔ ان کے صاحبزادے رضا پہلوی ایران میں شہنشاہیت کی بحالی کے لیے سیاسی طور پر متحرک ہیں۔ رضا اور ان کی اہلیہ یاسمین سے فرح کے تین پوتے پوتیاں (ایمان، نور اور فرح)ہیں۔

سوانح عمری
2003 میں فرح پہلوی نے اپنی سوانح عمری تحریر کی جس کا نام انہوں نے ” An Enduring Love: My Life with the Shah” رکھا۔ یہ کتاب 2004 میں امریکہ میں شائع ہوئی۔

خطابات
حالانکہ انقلاب کے بعد حکومت ایران نے سابق شاہی خاندان کو تمام اعزازات اور خطابات سے محروم کر دیا ہے اور قانونی طور پر کوئی بھی شاہی خطاب ممنوع ہے لیکن فرح دیبا اپنے نام کے ساتھ ملکہ یا شاہ بانو استعمال کرتی ہیں جبکہ ایران کی موجودہ حکومت سے ناراض مغربی ذرائع ابلاغ اور شاہ کے حامیان بھی انہیں ملکہ یا شاہ بانو کے نام سے پکارتے ہیں۔

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi

Farah Pahlavi