لاہور ہائیکورٹ: عام شہریوں کو بجلی مسلسل فراہمی پر رپورٹ طلب

Electricity

Electricity

لاہور (جیوڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت بیس مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے چھوٹے کاروباری طبقے کومسلسل بجلی فراہم کرنے کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کیس کی سماعت کی ۔پیپکو کے وکیل نے بجلی چوری کا اعتراف کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ لیسکو میں لائن لاسز کی شرح سب سے کم ہے جبکہ اس کے برعکس دیگر پاور سپلائی کمپنیوں میں لائن لاسز کی شرح خطرناک حد تک گیارہ سے تیس فیصد کے درمیان ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ واپڈا میں سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے بجلی کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ واپڈا افسران مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ عدالت نے عوامی اور ریاستی اداروں کے علاوہ چھوٹے کاروباری طبقے کو بجلی کی مسلسل فراہمی کے حوالے سے وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی۔

عدالت نے قومی گرڈ سے عام شہریوں کو بجلی کی فراہمی کے طریقہ کار کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کرنے اور بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت بیس مارچ تک ملتوی کر دی۔