fbpx
ایک لڑکا
جھلسی سی اک بستی میں
کچھ کہنے کا وقت نہیں
یہ جھوٹی باتیں ہیں
ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا
اے دل والو گھر سے نکلو
فرض کرو
دل عشق میں بے پایاں
دیکھ ہماری دید کے کارن
چھپ چھپ ان کے گھر میں آتے جاتے ہو
کل چودہویں کی رات تھی
کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا
اس بستی کے اک کوچے میں
دوستو فرصت دلداری دنیا بھی کہاں
اب آن ملو تو بہتر ہو
دیکھ بیت المقدس کی پرچھائیاں
دیکھ ہمارے ماتھے پر یہ دشتِ طلب کی دھول میاں
دروازہ کھلا رکھنا
بستی میں دیوانے آئے
اک بار کہو تم میری ہو
لب پر نام کسی کا بھی ہو……
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کا لگانا کیا
ابن انشا