fbpx
اک روز کوئی تو سوچے گا
ستمبر کی یاد میں
رات کے دوسرے کنارے پر
ایک رات کی کہانی
بارہواں کھلاڑی
وحشت کا اثر خواب کی تعبیر میں ہوتا
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیں
جہاں بھی رہنا یہی اک خیال رکھنا
قلم جب درہم و دینار میں تولے گئے تہے
کھوئے ہوئے اک موسم کی یاد میں
مرے خدا مرے لفظ وبیاںمیں ظاہر ہو
گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا
ہم اہلِ جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں