ملزم سکندر کی اہلیہ 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

Sakender Wife

Sakender Wife

اسلام آباد (جیوڈیسک) اسلام آباد واقعے کے ملزم سکندر کی اہلیہ کنول کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ ملزمہ کنول کو کل ڈیوٹی مجسٹریٹ ندیم جمالی کی عدالت میں پیش کر کے ایک روزہ راہداری ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔ آج پولیس نے دوبارہ ملزمہ کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا۔

پولیس نے عدالت میں ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزمہ سے وقوعہ کے بارے میں تفتیش کرنی ہے۔ عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے کنول کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد واقعہ کے مرکزی ملزم سکندر پر گولیاں کس نے چلائیں یہ معمہ تاحال حل طلب ہے جبکہ اس بات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں کہ ملزم سکندر کو گرفتار کرنے کے لئے دو پولیس افسر ایسے بھی پہنچ گئے جن کی ڈیوٹی نہیں تھی۔

جن میں سے ایک معطل ڈی ایس پی تھا۔ پندرہ اگست کی شام بلیو ایریا میں مسلح شخص کو ساڑھے پانچ گھنٹے تک بغیر آپریشن گرفتار کرنے کی کوشش کے باوجود اچانک فائرنگ نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس حوالے سے اعلی سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس افسران کے مطابق ملزم سکندر پر فائرنگ کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ تحقیقات میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ ملزم پر گولیاں کس نے چلائیں۔

پولیس اہلکاروں کی طرف سے سکندر پر فائرنگ کی ویڈیو بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ فائرنگ کے دوران ایک اعلی افسر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پایا گیا۔ ملزم کو ریسکیو کرنے والے پولیس اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔ تحقیقات میں اس بات کا پتہ چلایا جائے گا کہ معطل ڈی ایس پی سکندر تک کیسے پہنچ گیا۔

جبکہ دوسرا ڈی ایس پی اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر سکندر کے پاس کیوں آیا۔ زمرد خان اور پولیس اہلکاروں کے موبائلز پر کالز کا ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق زمرد خان کے ساتھ آنے والوں میں ایک سویلین بھی دیکھا گیا تھا۔ ادھر وزارت داخلہ کی انکوائری کمیٹی نے بھی واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔