سابق حکومت کا سوئس حکام کوخفیہ خط ، مقدمات بند کرنے کا کہا گیا

Supreme Court

Supreme Court

اسلام آباد (جیوڈیسک) چیف جسٹس پاکستان نے سوئس حکام کو سابق دور میں لکھے گئے خط پر برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ وزارت قانون اور سابق اٹارنی جنرل نے عدالت کو بے خبر رکھا، ذمہ داروں کو بادی النظر میں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کیلئے دو رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

چیف جسٹس پا کستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت انکشاف ہوا کہ سوئس حکام کو لکھے گئے خط کے ساتھ سابق حکومت کی جانب سے ایک اور خط بھی لکھا گیا جس میں سوئس حکام کو مقدمات بند کرنے کو کہا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کئی گئی۔

اٹارنی جنرل تفصیلات عدالت میں جمع کرائیں۔ وزارت قانون اور اٹارنی جنرل نے عدالت کو بے خبر رکھا،یہ تو میڈیا ہے جو معاملہ عدالت کے سامنے لایا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزارت قانون میں کچھ دستاویزات غائب تھیں۔وزیراعظم نے تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے کیبنٹ سیکریٹری سمیع سعید اور آئی بی کے ڈی جی آفتاب سلطان پر مشتمل دو رکنی تحقیقاتی ٹیم بنادی ہے۔

اٹارنی جنرل نے سوئس حکام کو لکھا گیا دوسرا خط بھی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ خط سابق سیکریٹری قانون یاسمین عباسی نے تحریر کیا۔ انہوں نے سوئس حکام کولکھا کہ مقدمہ بند کرکے خط لکھ دیں۔

سوئس حکام نے 4 فروری کو مقدمات بند کردیئے اور سوئس حکام کا حکم 14 جون کو موصول ہوا۔ سوئس حکام کے فیصلے کے خلاف دس دن کے اندر اپیل کی جاتی ہے ،حکومت نے فوری طور اپیل کردی تاہم وقت گزر چکا ہے۔چیف جسٹس نے ہدایت کی تحقیقاتی ٹیم کی فائنڈنگز عدالت سے شیئر کی جائیں۔ مقدمے کی مزید سماعت دوہفتوں کے بعد ہو گی۔