پابندیاں اٹھانے سے قبل ویانا میں واشنگٹن کے ساتھ خصوصی بات چیت نہیں ہو گی: ایران

Saeed Khatibzadeh

Saeed Khatibzadeh

ایران (اصل میڈیا ڈیسک) ایرانی وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ تہران ویانا میں جوہری مذاکرات کے ضمن میں امریکی وفد کے ساتھ خصوصی بات چیت ہر گز نہیں کرے گا۔

ایک پریس کانفرنس میں وزارت خارجہ کے ترجمان سعيد خطيب زاده کا کہنا تھا کہ “ایرانی مذاکراتی ٹیم سنجیدہ اور مصمم ارادے کے ساتھ ویانا آئی ہے تاکہ کسی سمجھوتے کے ابتدائی اصولوں تک پہنچا جا سکے اور نتائج کی حامل بات چیت کے بارے میں سوچا جائے”۔

ترجمان نے مزید کہا کہ “امریکیوں کو ایسی روش کے ساتھ ویانا آنا چاہیے جس کے ذریعے سابقہ مذاکرات کے سبب جنم لینے والا جمود ختم کیا جا سکے اور 2015ء سے ایران پر عائد پابندیاں اٹھائی جا سکیں جو فرضی علامتوں کی بنیاد پر انہوں نے عائد کی تھیں”۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ویانا میں ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے بین الاقوامی بات چیت ایک ماہ کے تعطل کے بعد آج پیر سے دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔

امریکا نے ایران کے لیے اپنے خصوصی ایلچی روب میلی کی قیادت میں ایک وفد ویانا بھیجا ہے۔ یہ وفد بات چیت میں بالواسطہ طور پر شریک ہو گا۔

مذاکرات کا یہ ساتواں دور ایران کے موجودہ صدر ابراہیم رئیسی کے منصب سبھالنے کے بعد بات چیت کا پہلا دور ہو گا۔

ایرانی میڈیا نے ایرانی وزیر خارجہ کے معاون برائے سیاسی امور اور ویانا میں تہران کے سینئر مذاکرات کار علی باقری کے حوالے سے بتایا ہے کہ “ہم نے اپنا راستہ اپنا لیا ہے۔ مغرب کو جوہری معاہدے میں اپنی عدم پاسداری کی قیمت چکانا چاہیے”۔

باقری کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک عسکری دھمکی اور پابندیوں کے سامنے ہر گز نہیں جھکے گا۔ ماضی کی غلطیوں کو دہرایا نہیں جانا چاہیے۔ دوسری جانب سے ضمانتوں اور پاسداری کی یقین دہانی پر ہمارا ملک بات چیت کے لیے تیار ہے”۔