تیس نومبر کے دھرنے کے لئے پولیس تیار

PTI

PTI

تحریر:مہر بشارت صدیقی
تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان 30 نومبر کے جلسے سے متعلق تحریری معاہدہ منظر عام پر آ گیا ہے۔ معاہدے میں لکھا گیا ہے کہ 30 نومبر کو جلسے کے شرکاء ریڈزون میں داخل نہیں ہوں گے اور شاہراہ دستور کو بھی بند نہیں کیا جائے گا۔ شرکاء کیلئے 20 واک تھرو گیٹ لگائے جائیں گے اور جلسے میں شراب اور کوئی ممنوعہ چیز لے جانے پر پابندی ہو گی جبکہ جلسے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے تحریک انصاف خود نصب کرے گی۔ معاہدے میں مزید لکھا گیا ہے کہ جلسے کی سیکیورٹی کیلئے نجی سیکیورٹی گارڈز کا بندوبست کیا جائے گا تاہم جلسے کے باہر کی سیکیورٹی پولیس اور رینجرز کے پاس ہو گی۔ تحریری معاہدے پر اسسٹنٹ کمشنر اور پی ٹی آئی کے چیف کوآرڈینیٹر کرنل (ر) یونس نے دستخط کر رکھے ہیں۔

تیس نومبر کوتحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان فیصلہ کن معرکہ ہونا ہے۔فریفین نے مکمل طورپرتیاریاں کرلیں ،جماعت اسلامی ،عوامی تحریک سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت سے معذرت کرلی ہے جبکہ تحریک انصاف نے اپنے کارکنان دوروزقبل ہی اسلام آباد پہنچاناشروع کردیے ، پنجاب اور آزاد کشمیر سے پولیس اہلکاروں کے دستے اسلام آباد پہنچ گئے جبکہ وفاقی پولیس نے پی ٹی آئی کے اتوار کو ہونے والے ‘فیصلہ کن’ جلسے کے حوالے سے اپنا سکیورٹی پلان مرتب کرلیا ہے۔

ہوٹلوں ،قہوہ خانوں ،ٹرانسپورٹرز،پیٹرل پمپس بندکیے جانے کاامکان ہے ، دیگرعلاقوں سے آنے والے دستوں میں چھ مظاہرین منتشر کرنے والے یونٹس اور چھ خواتین پولیس کے یونٹس بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ عام طو رپر اسلام آباد میں تعینات ہونے والے ایف سی یونٹس کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ یہ دستے اسپورٹس کمپلیکس، پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز، حاجی کیمپ اور کمیونٹی سینٹرز میں اپنے کیمپس بنائیں گے۔ اسلام آباد پولیس نے بس ٹرمینلز، ٹرانسپورٹرز اور وفاقی دارالحکومت کے کھانے پینے کے مراکز پر بھی نظر رکھنا شروع کردی ہے تاکہ انہیں دیگر شہروں سے جلسے میں شرکت کے لیے آنے والے پی ٹی آئی کے ورکرز اور حامیوں کو سہولیات فراہم کرنے سے روکا جاسکے، پولیس کے سکیورٹی پلان میں پی ٹی آئی حامیوں کو ‘بدمعاش’ قرار دیا گیا ہے۔

ایسا نہیں لگتا کہ ٹرانسپوٹرز، پٹرول اسٹیشنز، ریسٹورنٹس اور کھانے پکانے کے مراکز پر دباو ڈالنے کی حکمت عملی کارآمد ثابت ہوگی جنھوں نے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے پارلیمنٹ ہاو س کے باہر حالیہ مہینوں کے دھرنوں کے دوران کافی کمایا ہے۔اسلام آباد کے داخلی راستوں کو سیل کیا جائے گا تاکہ پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کو روکا جاسکے۔کنٹینرز اور خاردار تاریں بھی جلسہ گاہ تک رسائی کے راستے میں گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کو روکنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

اگر جلسے میں شریک عوام نے اشتعال میں پرتشدد احتجاج کیا یا ریڈ زون کی محفوظ عمارت کی جانب مارچ کی کوشش کی تو صرف لاٹھی چارج، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا جائے گا۔تاہم سینئر پولیس افسران اور ان کے محافظوں کے پاس اسلحہ موجود ہوگا جن میں سے کچھ پی ٹی آئی جلسے اور اس کے رضاکاروں کو ریسکیو 15 کے دفتر میں قائم کنٹرول رومز سے مانیٹر کریں گے۔ضلعی انتظامیہ کی ایک موبائل کمانڈ پوسٹ قائم کرنے کی تجویز بھی اس حوالے سے پیش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ ایک ایمرجنسی پلان کو بھی تیار کیا گیا ہے جس کے تحت صحت اور ویلفیئر کے محکموں کو ایمبولینسز تیار رکھنے اور ہسپتالوں میں انتظامات کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

پندرہ سو سے زائد ایسی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جن میں سے ہر ایک میں تین اہلکار شامل ہوں گے، جن میں سے دو کے پاس ڈنڈے اور تیسرے کے پاس ہتھکڑیاں ہوں گی تاکہ تفصیلی اطلاعات ملنے پر شرپسند عناصر کو حراست میں لے کر جیل منتقل کیا جاسکے۔اسی طرح اے آئی جی اور ایس پی ہیڈکوارٹرز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مشتعل احتجاج کو منتشر کرنے والے حوالے ہر طرح کا ساز و سامان پولیس کو دستاب ہو۔ تحریک انصاف راولپنڈی سے ہزاروں کارکنان پہنچیں گے ان کارکنان میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے قرب وجوارسے آنے والے کارکنان بھی شامل ہوں گے۔حکومت نے تحریک انصاف کو ڈی چوک پر جلسہ کرنے کی اجازت دیدی ۔ تحریک انصاف ریڈ زون یا شاہراہ دستور پر کسی صورت بھی داخل نہیں ہوگی اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ اور تحریک انصاف کے درمیان تحریری معاہدہ بھی ہوگا جس کی پاسداری تحریک انصاف کیلئے لازمی ہوگی۔

Government Of Punjab

Government Of Punjab

حکومت پنجاب کی ہدایت پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے تحریک انصاف کے 30نو مبر کے جلسہ عام کو نا کا م بنا نے کے لیے صو بائی دارالحکو مت میں پبلک و مال بردار ٹرانسپورٹ کی بلا جواز پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس پر ٹرانسپورٹرز سر اپا احتجا ج بن گئے ہیں اور اس پر گزشتہ روز ٹرانسپورٹروں کی بڑ ی تعداد نے سیکرٹری ٹرانسپور ٹ کے دفتر کے سامنے زبر دست احتجا جی مظاہرہ کیا جس سے کئی گھنٹے تک ٹر یفک جام ہو گئی۔مظاہرین نے مطا لبہ کیا کہ ہماری گاڑیا ں چھوڑی جائیں بصورت دیگر لاہور کے داخلی و خارجی راستو ں پر شاہراہیں بلا ک کر کے ٹریفک کا نظام درہم بر ہم کر دیں گے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے مقامی پو لیس کی مد د سے گاڑیوں کے چالا ن کر کے بڑی تعداد میں گاڑیا ں بحق سر کارضبط کر لی ہیں۔

ٹرانسپورٹروں پر کر یک ڈاؤ ن کر نے کی وجہ تحریک انصاف کے 30نو مبر کے جلسہ کو نا کا م بنا نا ہے تاکہ لاہور سے کارکنو ں کی بڑی تعداد اسلا م آباد نہ پہنچ سکے اور اس حوالے سے گاڑیو ں کے کا غذات اور روٹ پر مٹ مکمل ہو نے کے باو جو د پبلک و مال بردار گاڑیوں کے چا لا ن کیے جارہے ہیں ۔اسلام آباد پولیس نے 30نومبر کے جلسہ کے حوالے سے کریک ڈاؤن شروع کر دیا ۔سلام آباد پولیس نے عمران خان’ جہانگیر ترین اور شیریں مزاری سمیت400رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لئے ہیں۔ پولیس نے کسی بھی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر گرفتاریوں کیلئے ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں۔ حالات خراب ہونے پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جائیگا۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کہتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف 30 نومبر کو سیاسی سرگرمی اور احتجاج کرنا چاہتی ہے

تو حکومت اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالے گی اگر اس کا ارادہ یلغار یا حملہ اور سرکاری عمارات پر قبضے اور شاہراہ دستور پر یلغار کا ہے تو پھر قانون حرکت میں آئے گا اور کسی ایسی غیر قانونی حکمت عملی کا مقابلہ کیا جائے گا۔ حکومت اپنی رٹ قائم کرنا جانتی ہے کسی کو پارلیمان یا سرکاری اداروں پر یلغار کی اجازت نہیں دیگی۔ عمران خان پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اب سیاسی غنڈہ گردی کو وقت اور جگہ پر محدود کر دیں، ریاست کی طاقت ہمیشہ موثر ہوتی ہے، 31 اگست کو اس کا باقاعدہ اظہار کیا جا چکا ہے

Islamabad

Islamabad

کوئی اس ابہام اور غلط فہمی میں نہ رہے کہ ریاست کی طاقت قانون کی عملداری کے حوالہ سے کمزور ہوئی ہے، عمران درست کہتے ہیں کہ 14اگست کو حالات اور تھے، اب کچھ اور ہیں، 30 نومبر کو صورتحال یکسر مختلف ہو گی، آج حتمی فیصلہ کر لیں گے کہ 30 تاریخ کو ہماری انتظامی حکمت عملی کیا ہو گی۔ اسلام آباد میں دوبارہ فوج کو طلب کیا جاسکتا ہے، سینکڑوں فوجی جوان جڑواں شہر میں الرٹ بیٹھے ہیں، دھرنے کی ناکامی پر کسی کو قومی عمارتوں پر یلغار اور دھاوا نہیں بولنے دیں گے۔

تحریر:مہر بشارت صدیقی